ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے پر امریکا کیسی کارروائی کر سکتا ہے؟ صدر ٹرمپ کا خفیہ منصوبہ سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو ایٹمی توانائی کی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دے سکتے ہیں، بشرطیکہ تہران یہ وعدہ کرے کہ وہ کبھی ایٹمی بم نہیں بنائےگا۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اگر تہران واشنگٹن کی شرائط پر عمل نہیں کرتا تو ٹرمپ کے پاس ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، ان کے بیٹے مجتبیٰ اور دیگر مذہبی قیادت کے ارکان کو ہلاک کرنے کا منصوبہ موجود ہے۔
مزید پڑھیں: امریکا اور ایران آمنے سامنے: ٹرمپ کی فوجی تیاریوں اور سخت دھمکیوں کے بعد خطہ بڑی جنگ کے دہانے پرپہنچ گیا
یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ مشرق وسطیٰ میں فوجی طاقت کو بڑھا رہے ہیں، جس سے ایران کے ایٹمی پروگرام پر کوئی ڈیل کیے بغیر جنگ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
ایک سینیئر امریکی اہلکار نے میڈیا کو بتایا کہ صدر ٹرمپ ایسے معاہدے کے لیے تیار ہیں جو سیاسی طور پر بھی قابل قبول ہو۔
ان کے مطابق اگر ایران امریکی حملے کو روکنا چاہتا ہے تو اسے ایسی پیشکش کرنا ہوگی جو رد نہ کی جا سکے، تاہم ایرانی ابھی تک یہ موقع گنوانے میں مصروف ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے بدترین صورتحال کے لیے تیاریاں کر رکھی ہیں اور مختلف آپشنز ٹرمپ کے سامنے رکھے ہیں۔
ایک مشیر نے بتایا کہ ہر ممکنہ صورت حال کے لیے منصوبہ موجود ہے۔ ایک آپشن آیت اللہ اور ان کے بیٹے سمیت مذہبی قیادت کو ہلاک کرنا ہے، تاہم صدر ٹرمپ کیا فیصلہ کریں گے، یہ کوئی نہیں جانتا۔
ایران اور امریکہ تیزی سے عسکری تصادم کے قریب پہنچ رہے ہیں کیونکہ تہران کے ایٹمی پروگرام پر سفارتی حل کی امیدیں ختم ہوتی جا رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل بھی سمجھتا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان بات چیت کا راستہ بند ہو چکا ہے اور ممکنہ طور پر امریکی فوج کے ساتھ مشترکہ کارروائی کی تیاری کررہا ہے، حالانکہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔
ایران اور امریکا کے آخری دو مذاکرات بنیادی مسائل پر رکے ہوئے ہیں، جن میں یورینیم افزودگی، میزائل اور پابندیوں میں نرمی شامل ہیں۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہاکہ دونوں جانب رہنما اصولوں پر اتفاق ہوا ہے، لیکن وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اختلافات برقرار ہیں۔
اقوام متحدہ کے ایٹمی نگرانی ادارے کے سربراہ رافائیل گروسی بھی مذاکرات میں شامل ہیں اور تکنیکی اقدامات کی سفارش کررہے ہیں تاکہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے رہ سکے۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا کشیدگی، برطانیہ کا قطر میں ٹائفون جنگی طیارے تعینات کرنے کا فیصلہ
امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ایرانی پیشکش بہت تفصیلی ہونی چاہیے اور یہ ثابت کرنا ہوگا کہ پروگرام پرامن ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایران مذاکرات امریکی میڈیا جوہری معاہدہ سنسنی خیز انکشاف صدر ٹرمپ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا ایران مذاکرات امریکی میڈیا جوہری معاہدہ سنسنی خیز انکشاف وی نیوز پروگرام پر کے مطابق ایران کے ایران ا کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔