data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے تہران کو واضح طور پر 10 سے 15 روز کی مہلت دے دی ہے، ساتھ ہی خبردار کیا ہے کہ اگر اس دوران مذاکرات کا آغاز نہ ہوا تو فوجی کارروائی سے گریز نہیں کیا جائے گا۔

عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے ڈیڈ لائن کے اعلان کے فوراً بعد یورپ میں تعینات امریکی فضائیہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، جہاں مختلف عسکری اڈوں پر سرگرمیاں غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہیں، خاص طور پر پرتگال کے ایک جزیرے پر واقع امریکی ایئر بیس پر جنگی طیاروں، معاون فضائی اثاثوں اور لاجسٹک سہولیات کی نقل و حرکت میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے ممکنہ فوجی آپریشن کی تیاریوں کا تاثر ملتا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگی طیاروں نے خطے کی سمت پوزیشنیں سنبھال لی ہیں جب کہ فضائی نگرانی اور انٹیلی جنس سرگرمیوں میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے۔ اس عسکری نقل و حرکت کو ایران پر دباؤ بڑھانے کی عملی حکمتِ عملی قرار دیا جا رہا ہے، تاکہ تہران کو مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔

دوسری جانب معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی تجزیاتی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ایران پر کسی بھی قسم کا براہِ راست امریکی حملہ نہ صرف غیر متوقع نتائج کا حامل ہو سکتا ہے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک وسیع اور خطرناک جنگ کی لپیٹ میں لے جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق خطے کی پہلے سے نازک صورتحال کسی بھی بڑے تصادم کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

اس سے قبل برطانوی خبر رساں اداروں نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر ایران کی اعلیٰ قیادت کو براہِ راست نشانہ بنانے کے آپشنز پر بھی غور کر رہے ہیں، جبکہ بعض اطلاعات میں محدود فضائی اور میزائل حملوں کا ذکر بھی سامنے آیا ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق واشنگٹن کا مقصد محض عسکری دباؤ ڈالنا نہیں بلکہ ایرانی حکومت کو سیاسی طور پر کمزور کر کے نظام میں تبدیلی کی راہ ہموار کرنا بھی ہو سکتا ہے۔

تاحال ایرانی حکومت کی جانب سے ان خبروں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں ایرانی حکام بارہا واضح کر چکے ہیں کہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے چند دن خطے کے لیے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، جہاں سفارت کاری اور جنگ کے درمیان لکیر غیر معمولی حد تک باریک دکھائی دے رہی ہے۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق

پڑھیں:

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔

دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔

قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔

ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔

ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،

وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل