بنوں میں خودکش حملہ: سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ، منصوبہ بندی افغانستان سے کی گئی
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
اسلام آباد (طارق محمود سمیر ) بنوں میں پاک فوج کی گاڑی پر ہونے والے خودکش حملے کے حوالے سے سیکیورٹی ذرائع نے اہم انکشافات کیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس حملے کے تانے بانے افغانستان میں موجود شدت پسند کمانڈر حافظ گل بہادر سے جا ملتے ہیں۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم فتنہ الخوارج کے ذیلی گروہ “اتحاد المجاہدین” نے قبول کی ہے، جو مبینہ طور پر حافظ گل بہادر گروپ سے وابستہ ہے۔ ذرائع کے مطابق اس گروہ کی قیادت اور اہم کمانڈرز اس وقت افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور وہیں سے کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ پہلا واقعہ نہیں۔ گزشتہ برس 4 مارچ 2025 کو ماہِ رمضان کے دوران بنوں کینٹ پر حملہ بھی اسی نیٹ ورک نے کیا تھا، جس کی منصوبہ بندی بھی مبینہ طور پر افغانستان سے کی گئی تھی۔ اسی طرح 2 ستمبر 2025 کو فیڈرل کانسٹیبلری بنوں پر حملے میں میجر عدنان نے بہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا تھا۔ اس حملے کی ذمہ داری بھی اسی شدت پسند گروہ نے قبول کی تھی۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شمالی اور جنوبی وزیرستان، خصوصاً میر علی میں ہونے والے متعدد حملوں کے پیچھے بھی یہی نیٹ ورک کارفرما رہا ہے۔ بعد ازاں تحقیقات میں سامنے آیا کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری سرحد پار سے کی گئی۔
حکام کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں شدت پسند قیادت کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق شواہد سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملوں میں 70 فیصد سے زائد عناصر یا تو افغان نژاد ہیں یا افغانستان سے منسلک نیٹ ورکس سے جڑے ہوئے ہیں۔
سیکیورٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر سرحد پار سے دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں اور معاونت ملتی رہی تو خطے میں امن کی کوششیں متاثر ہوتی رہیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ذرائع کے مطابق
پڑھیں:
حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔
یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔
مزید :