اسرائیل کا لبنان میں پناہ گزیں کیمپ ہر حملہ، 10 افراد ہلاک، حماس کا ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
لبنان کے جنوبی حصے میں واقع فلسطینی پناہ گزین کیمپ “عين الحلوہ” پر اسرائیل نے فضائی حملہ کیا جس کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک ہوگئے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق 10 افراد کی ہلاکتوں کے علاوہ اس حملے میں کئی افراد بھی زخمی بھی ہوئے جبکہ حملے میں ایک گرجا گھر کو نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیل نے اس حملے کیلئے موقف اپنایا کہ اس حملے میں حماس کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
کچھ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ لبنان میں فضائی حملوں کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔تاہم زیادہ تر معتبر ذرائع پر مبنی رپورٹس میں مجموعی تعداد 10 کے قریب بتائی گئی ہیں۔
دوسری جانب حماس نے اس دعوے کی تردید کی اور حملے کو بے گناہ شہریوں اور پناہ گزینوں پر ظالمانہ حملہ قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی کہا ہے کہ نشانہ بننے والی عمارت دراصل کسی فوجی مرکز یا ہتھیاروں کی جگہ نہیں بلکہ سکیورٹی فورس کی جگہ تھی جو خیمہ نشینوں کے تحفظ کا حصہ تھا۔
حماس نے اس حملے کو بین الاقوامی قانون اور لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزی بھی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے واقعات علاقائی کشیدگی میں اضافہ کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔