لبنان میں اسرائیل کا فضائی حملہ، حزب اللہ کمانڈر سمیت 12 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
لبنان کے مشرقی اور جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 12 ہو گئی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ حملوں میں حزب اللہ اور اس کی فلسطینی اتحادی تنظیم حماس کو نشانہ بنایا گیا۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق وادی بقاع میں مختلف مقامات پر اسرائیلی حملوں میں 10 افراد جاں بحق اور 24 زخمی ہوئے، جن میں 3 بچے بھی شامل ہیں۔ سرکاری خبر رساں ادارے نے اس سے قبل بھاری بمباری کے نتیجے میں 6 ہلاکتوں اور 25 زخمیوں کی اطلاع دی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: لبنان میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے عمل کا پہلا مرحلہ مکمل
ادھر حزب اللہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مشرقی بقاع میں ہونے والے حملوں میں تنظیم کا ایک ‘کمانڈر’ مارا گیا۔
اسرائیلی فوج نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ اس نے حزب اللہ کے کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنایا ہے۔
یہ حملے ایک ایسے وقت میں کیے گئے جب نومبر 2024 میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود اسرائیل لبنان میں باقاعدگی سے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ مذکورہ جنگ بندی کا مقصد حزب اللہ کے ساتھ ایک سال سے زائد عرصے تک جاری جھڑپوں کو روکنا تھا۔
یہ بھ یپڑھیے: اسرائیل کا لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ قدس فورس کے کمانڈر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق ان حملوں سے چند گھنٹے قبل ملک کے سب سے بڑے فلسطینی پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی حملے میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں حماس کو نشانہ بنایا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل حماس فلسطین لبنان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل فلسطین حزب اللہ کو نشانہ
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔