Jasarat News:
2026-07-23@23:28:44 GMT

ٹرمپ کا پیس بورڈ درحقیقت پولیس بورڈ ہے‘ ممتاز سہتو

اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی ( اسٹاف رپورٹر)ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستانممتاز حسین سہتو نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا بنایا ہوا پیس بورڈ حقیقت میں پولیس بورڈ ہے جس کے ذریعے امریکا فلسطین پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، ٹرمپ اپنے مذموم عزائم کے لیے دیگر ممالک کو استعمال کرنا چاہتا ہے اور افسوس کہ پاکستان بھی خوشی خوشی یہ خدمت سرانجام دینے کے لیے پیش پیش ہے۔ فلسطین یا حماس کے خلاف کاروائی امت مسلمہ سے غداری ہے بلکہ عالمی ضمیر کی مخالفت ہے جس کو پوری دنیا کاشعور تسلیم نہیں کر ے گا۔مسجد جمیل کورنگی کراچی میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کا مہینہ بیداری کا مہینہ ہے اور اس وقت کے طاغوت ٹرمپ کے مقابلے کی تیاری مقصود ہے، دور نبویؐ میں 17رمضان کو کفر وجہالت کو شکست ہوئی تھی آج اللہ کی ذات انتظار میں کہ امت میدان میں اترے تو اللہ اپنے نصرت سے نوازے۔ ممتاز سہتو نے مزید کہا کہ رمضان نزول قرآن کا مہینہ ہے اور قرآن مجید کسی الماری کی زینت کے لیے نہیں بلکہ انسانیت کی مکمل رہنمائی کے لیے آیا ہے افسوس کی بات کی قرآن کی بار بار تلاوت ہوتی لیکن زندگی کے کسی شعبے میں اسے نافذ کرنے کے لیے مسلمان تیار نہیں اور حکمران ٹولہ تو بغاوت پر اترا ہوا ہے جس کی تازہ مثال شراب کے خلاف قرارداد پر حکمران ٹولے کا رویہ ہے۔ارکان سندھ اسمبلی کی یہ روش اخلاق، قانون، دستور اور نظریہ پاکستان کے خلاف ہے۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار