بنوں خودکش حملے کے تانے بانے افغانستان میں موجود خارجی نیٹ ورک سے جا ملے، سکیورٹی ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
بنوں خودکش حملے کے تانے بانے افغانستان میں موجود خارجی نیٹ ورک سے جا ملے، سکیورٹی ذرائع WhatsAppFacebookTwitter 0 21 February, 2026 سب نیوز
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بنوں میں پاک فوج کی گاڑی پر ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے اور اس کے تانے بانے افغانستان میں موجود خارجی کمانڈر حافظ گل بہادر سے جا ملے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بنوں خودکش حملے کی ذمہ داری فتنہ الخوارج کے ذیلی گروہ اتحاد المجاہدین نے قبول کی ہے، جو کہ حافظ گل بہادر گروپ سے منسلک ہے۔ سیکیورٹی حکام کے مطابق اس گروہ کا مرکزی سرغنہ گل بہادر اور اس کے اہم کمانڈرز افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور وہیں سے پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حافظ گل بہادر گروپ افغانستان کی سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی اور فتنہ انگیزی میں ملوث ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال 4 مارچ 2025 کو رمضان المبارک کے دوران بنوں کینٹ پر ہونے والے حملے کی منصوبہ بندی بھی افغانستان سے کی گئی تھی۔
مزید برآں، 2 ستمبر 2025 کو فیڈرل کانسٹیبلری بنوں پر فتنہ الخوارج کے حملے کے دوران میجر عدنان نے بہادری سے لڑتے ہوئے جامِ شہادت نوش کیا تھا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق میر علی سمیت شمالی اور جنوبی وزیرستان میں ہونے والے متعدد حملوں کی ذمہ داری بھی اسی گروہ نے قبول کی، اور بعدازاں شواہد سے ثابت ہوا کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری افغانستان سے کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حافظ گل بہادر سمیت فتنہ الخوارج کے مرکزی سرغنوں کی افغانستان میں موجودگی اس امر کا ثبوت ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ مزید شواہد سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 70 فیصد سے زائد عناصر افغان نژاد یا افغانستان سے مربوط نیٹ ورکس سے تعلق رکھتے ہیں۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق افغان طالبان رجیم کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی کے باعث دہشت گردوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں، جو خطے میں امن کی کوششوں کو مسلسل سبوتاژ کر رہی ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرریاستی اداروں پر الزامات کا کیس: سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم ریاستی اداروں پر الزامات کا کیس: سہیل آفریدی کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم ایم کیو ایم ، (ق) لیگ اور بی اے پی کا دہشتگردی کے خاتمےکیلئے فورسز کی مکمل حمایت کا اعلان صدر زرداری کی جانب سے چین کو خوشحالی میں مسلسل پیش رفت کے لئے نیک خواہشات کا اظہار خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا منصوبہ ناکام، خاتون خودکش حملہ آور گرفتار بنوں: فتنہ الخوارج کا فورسز کے قافلے پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور سپاہی شہید، 5 دہشتگرد جہنم واصل آڈیو لیک کیس میں علی امین گنڈاپور پر فردِ جرم عائدCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: افغانستان میں خودکش حملے
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔