طالبان رجیم کی سرپرستی میں افغانستان القاعدہ اوردیگر دہشتگرد تنظیموں کا مرکز بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) افغان طالبان رجیم کی شدت پسندی، غیر قانونی سرگرمیوں اور دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی نے خطے کے امن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ ایک عالمی رپورٹ میں افغان طالبان کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی اور افغان سرزمین سے پھیلتی ہوئی دہشت گردی کو بے نقاب کیا گیا ہے۔
امریکی جریدے Just the News کے مطابق طالبان رجیم کی مکمل سرپرستی کے باعث القاعدہ افغانستان میں اپنی سرگرمیاں بلا روک ٹوک جاری رکھے ہوئے ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان نے القاعدہ کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رکھی ہیں اور دونوں تنظیمیں ایک دوسرے کو تعاون فراہم کرتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کا گٹھ جوڑ مضبوط ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں خطے کے دیگر ممالک بھی دہشت گرد گروہوں کی موجودگی، سرحد پار حملوں اور بڑھتی ہوئی شدت پسندی سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ امریکی جریدے نے انکشاف کیا ہے کہ افغان طالبان کی سرپرستی میں القاعدہ نہ صرف خود سرگرم ہے بلکہ فتنہ الخوارج سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں کو تربیت بھی فراہم کر رہی ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کے زیر تسلط افغانستان اس وقت دہشت گرد تنظیموں کی آماجگاہ بن چکا ہے جو پورے خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان نے افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کے حوالے سے عالمی برادری کو بارہا آگاہ کیا ہے، تاہم عملی اقدامات کی کمی کے باعث صورتحال مزید بگڑ رہی ہے۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی برادری ان دہشت گرد گروہوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ٹھوس اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: دہشت گرد گروہوں افغان طالبان کی سرپرستی
پڑھیں:
سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ اسلام ٹائمز۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 24 مئی ٹرین حادثے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کئے، آپریشن کا سلسلہ مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں شروع کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں ہندوستانی پراکسی فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور دیسی ساختہ بم بھی برآمد ہوئے، ہلاک دہشت گرد علاقے میں دہشت گرد کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہے، عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشتگردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی، ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔