بنوں: فتنہ الخوارج کا فورسز کے قافلے پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور سپاہی شہید، 5 دہشتگرد جہنم واصل
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
بنوں میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج نے بزدلانہ حملہ کیا جس سے لیفٹیننٹ کرنل اور ایک سپاہی شہید ہو گئے، آپریشن میں 5 دہشت گرد جہنم واصل کر دیئے گئے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق سکیورٹی فورسز کے قافلے کو بنوں ضلع میں بھارتی پراکسی فتنہ الخوارج نے اس وقت نشانہ بنایا جب خوارج کی موجودگی، جن میں ایک خودکش بمبار بھی شامل تھا، کی اطلاع پر انٹیلی جنس بنیاد پر آپریشن کیا جا رہا تھا۔بتایا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے اگلے دستے نے گاڑی میں سوار خودکش بمبار کو بروقت روک لیا اور اس کے ناپاک عزائم کو ناکام بنا دیا، یہ دہشت گرد بنوں شہر میں معصوم شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانا چاہتا تھا، یوں ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا گیا۔یہ بھی بتایا گیا کہ آپریشن کے دوران خوارج کا سراغ لگا کر شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد سکیورٹی فورسز نے پانچ خوارج کو جہنم واصل کر دیا تاہم مایوسی کے عالم میں خوارج نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی اگلے دستے کی ایک گاڑی سے ٹکرا دی۔آئی ایس پی آر کے مطابق دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی ٹکرانے سے لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ شہید ہو گئے، مانسہرہ سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز ایک بہادر کمانڈنگ آفیسر تھے اور اپنی جرات مندانہ کارروائیوں کے لیے معروف تھے۔واضح رہے کہ خوارج رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان کے اندر دہشت گرد کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے کہ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔آئی ایس پی آر کے مطابق افغان طالبان حکومت ایک بار پھر خوارج کو پاکستان کے اندر دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے استعمال سے روکنے میں ناکام رہی ہے، پاکستان کسی قسم کا ضبط و تحمل نہیں برتے گا اور اس گھناؤنے اور بزدلانہ فعل کے ذمہ داروں کے خلاف ان کی موجودگی سے قطع نظر کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی تاکہ خوارج کو قرار واقعی سزا دی جا سکے۔اس عزم کا اظہار کیا گیا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی ایپکس کمیٹی سے منظور شدہ وژن عزمِ استحکام کے تحت سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسدادِ دہشت گردی مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ غیر ملکی سرپرستی اور معاونت سے چلنے والی دہشت گردی کے ناسور کا ملک سے مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔