data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر)ڈسٹرکٹ سینٹرل کے ڈسٹرکٹ ایجو کیشن آفیسرامتیاز حسین اثر اور ڈسٹرکٹ فوکل پرسن اسٹیم کبریٰ شفیع نے ڈسٹرکٹ سینٹرل ٹیم کی مشترکہ کاوشوں اور اسٹیم پالیسی یونٹ کے تعاون سے اسٹیم مقابلہ 2026 کے رنگا رنگ ڈسٹرکٹ راؤنڈ کا کامیابی سے انعقاد جی بی ایچ ایس ایس علامہ اقبال، ایف بی ایریا بلاک 16، ڈسٹرکٹ سینٹرل، کراچی میں کیا، جہاں طلبہ، اساتذہ، تعلیمی ماہرین اور سرکاری حکام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

تقریب میں 57 اسکولوں نے حصہ لیا اور 224 پراجیکٹس پیش کیے گئے، جبکہ 800 سے زائد طلبہ، 568 سے زائد اساتذہ، 38 ججز اور متعدد معزز مہمانوں نے شرکت کی۔ اس مقابلے کا مقصد طلبہ میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، آرٹس اور میتھمیٹکس کے ذریعے تخلیقی صلاحیتوں اور عملی سیکھنے کو فروغ دینا تھا۔

ڈائریکٹر اسکول ایجو کیشن کراچی ریجن مرزا ارشد بیگ نے طلبہ کی کار کردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ طلبہ نے نظریاتی علم کو عملی زندگی سے جوڑ کر بہترین سائنسی سمجھ کا مظاہرہ کیا ہے، جو ہینڈز آن لرننگ کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ ” دیگر اعلی تعلیمی حکام نے بھی تقریب کے مؤثر انتظامات اور طلبہ کے تخلیقی کام کو قابل تحسین قرار دیا۔چیئر مین سندھ ٹیکنیکل بورڈ مشرف علی راجپوت نے طلبہ کی جانب سے کم لاگت اور ری سائیکل مواد کے استعمال کو ان کی تخلیقی صلاحیتوں اور وسائل کے مؤثر استعمال کی بہترین مثال قرار دیا، جبکہ ڈائریکٹر ایچ آر کشور کمار نے کہا کہ طلبہ نے ججز کے سوالات کے منطقی اور اعتماد سے بھر پور جوابات دے کر اپنی مضبوط تنقیدی سوچ کا مظاہرہ کیا۔

ارکان اسمبلی گیرن مسعود اور جمال احمد خان نے کہا کہ اس نوعیت کے پروگرام طلبہ میں تخلیقی سوچ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور خود اعتمادی کو فروغ دیتے ہیں اور مستقبل کے سائنسدانوں، انجینئرز اور اختراع کاروں کی تیاری میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔تقریب کی نمایاں جھلکیوں میں طلبہ کے تیار کردہ پہلے اسکیپ ڈیزائن پراجیکٹس شامل تھے، جن میں سائنسی اصولوں، حفاظتی اقدامات اور تخلیقی ڈیزائن کا بہترین امتزاج دیکھا گیا۔

ماہرین نے ان منصوبوں کو مزید ترقی دینے کے لیے اسکولوں کے ساتھ تعاون کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ہیلتھ ایجو کیشن سے متعلق ورکشاپس بھی منعقد کی (BMI) مقابلے کے ساتھ ساتھ فزیو تھراپی آگاہی اور بی ایم آئی گئیں، جن میں طلبہ کو صحت مند طرز زندگی، جسمانی حرکات اور متوازن غذا کی اہمیت کے بارے میں عملی سرگرمیوں کے ذریعے آگاہ کیا گیا۔

اختتامی کلمات میں اعلیٰ حکام نے کہا کہ اسٹیم مقابلہ طلبہ میں تحقیق، تخلیقی صلاحیت، ٹیم ورک اور عملی سیکھنے کے فروغ کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہو رہا ہے اور سندھ بھر کے سرکاری اسکولوں میں تعلیمی معیار کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟

وفاقی حکومت آئندہ بجٹ میں ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو سہارا دینے کے لیے پراپرٹی ٹیکس نظام میں بڑی تبدیلیاں متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق فائلرز کے لیے جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس بوجھ کم کیے جانے کی تجویز ہے جبکہ نان فائلرز کو کسی قسم کی رعایت دیے جانے کا امکان نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بجٹ 27-2026 میں کون سی اشیا سستی ہونے کا امکان ہے؟

ذرائع کے مطابق حکومت ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی لانے کے لیے مختلف ٹیکس اصلاحات پر غور کر رہی ہے۔ مجوزہ اقدامات کا مقصد تعمیراتی سرگرمیوں میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا اور پراپرٹی مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنا ہے۔ اس سلسلے میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد مختلف ٹرانزیکشن ٹیکسز میں کمی کی تجاویز زیر غور ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے پراپرٹی ٹیکسز میں مجوزہ تبدیلیوں سے متعلق عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بھی آگاہ کردیا ہے۔ حکام کے مطابق ٹیکسوں میں کمی سے ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا جس سے سرمایہ کاری کا رجحان بڑھے گا اور مجموعی طور پر حکومتی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ متوقع ہے۔

ایف بی آر کے حکام کے مطابق پراپرٹی مارکیٹ میں سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے گزشتہ 3 ماہ کے دوران جائیدادوں کے ویلیو ایشن ریٹس میں 30 سے 35 فیصد تک کمی کی جا چکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد خرید و فروخت کے عمل کو تیز کرنا اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے پراپرٹی کی خریداری پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس کو موجودہ 1.5 فیصد سے کم کرکے 0.25 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اسی طرح پراپرٹی فروخت کرنے پر لاگو ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 4.5 فیصد سے کم کرکے 1.5 فیصد تک لانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں سرمایہ کاری اور لین دین کی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

مزید پڑھیے: آئندہ مالی سال کا بجٹ: کس کو ریلیف ملے گا اور کس پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھے گا؟

دوسری جانب نان فائلرز کے لیے کسی قسم کی ٹیکس رعایت تجویز نہیں کی گئی۔ ذرائع کے مطابق جائیداد کی خرید و فروخت پر نان فائلرز کے لیے عائد مجموعی ٹیکس بوجھ بدستور برقرار رکھنے پر غور کیا جا رہا ہے جس کے تحت انہیں تقریباً 10.5 فیصد تک ٹیکس ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ مجوزہ ریلیف صرف ٹیکس نیٹ میں شامل افراد تک محدود رکھا جائے گا تاکہ مزید شہریوں کو فائلر بننے کی ترغیب دی جا سکے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران پراپرٹی سیکٹر سے متعلق مختلف ٹیکسوں کی وصولیوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس عرصے میں پراپرٹی ٹرانزیکشنز پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولیاں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 29 فیصد کم رہیں جبکہ 5 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی میں 68 فیصد اور انکم ٹیکس آرڈیننس کی شق 37A کے تحت وصول کیے جانے والے 10 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس میں 64 فیصد کمی دیکھی گئی۔ اسی طرح شق 7E کے تحت ڈیمڈ انکم ٹیکس کی وصولیوں میں بھی 10 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جو ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں سست روی کی عکاسی کرتی ہے۔

مزید پڑھیں: بجٹ 27-2026: آئی ایم ایف کا جنرل سیلز ٹیکس بڑھا کر 19 فیصد کرنے کا مطالبہ

ریئل اسٹیٹ کنسلٹنٹس ایسوسی ایشن کے صدر احسن ملک کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو دوبارہ فعال بنانے کا وژن ملکی معیشت کے لیے مثبت نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے سے براہ راست اور بالواسطہ طور پر 45 سے 55 مختلف صنعتیں وابستہ ہیں لہٰذا اس سیکٹر میں سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور مجموعی معاشی سرگرمیوں کو تقویت ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ 4 فیصد سے زائد معاشی شرح نمو کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے کو مراعات دینا ناگزیر ہے، کیونکہ اس شعبے کی بحالی سے نہ صرف سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا بلکہ معیشت کے دیگر شعبوں کو بھی تقویت ملے گی۔

یہ بھی پڑھیے: حکومت بجٹ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کررہی ہے، رانا ثناءاللہ

ذرائع وزارتِ خزانہ کے مطابق پراپرٹی سیکٹر کے لیے مجوزہ ٹیکس ریلیف اور دیگر اصلاحات سے متعلق تجاویز پر عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو اعتماد میں لیا جا چکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان تجاویز پر حتمی فیصلہ وفاقی بجٹ کی منظوری کے بعد کیا جائے گا جس کے بعد حکومت پراپرٹی ٹیکس نظام میں ممکنہ تبدیلیوں کا باضابطہ اعلان کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بجٹ میں ریلف پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو ریلیف ٹیکس ریلیف وفاقی بجٹ 2026-27

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ 2026-27: پراپرٹی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کتنے بڑے ٹیکس ریلیف کا امکان؟
  • فیفا ورلڈ کپ 2026 نے تاریخ کے سب سے بڑے فٹبال ایونٹ کا اعزاز حاصل کر لیا
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ