راجپال یادو اور امیتابھ بچن کے تعلقات کا چیک باؤنس کیس میں انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
بالیوڈ اداکار راجپال یادو کو دہلی ہائی کورٹ نے 9 کروڑ روپے کے چیک باؤنس کیس میں عبوری ضمانت دے دی ہے۔ وکیل کے مطابق یہ تنازع فلم اٹا پٹا لاپٹا کے میوزک لانچ کے موقع پر امیتابھ بچن کے شامل ہونے والے ایک اختلاف سے شروع ہوا اور تب سے قانونی جنگ جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:راجپال یادو کی جیل سے رہائی کی ویڈیو وائرل، حقیقت سامنے آگئی
راجپال یادو نے دہلی ہائی کورٹ سے عبوری ضمانت حاصل کر لی ہے، یہ کیس کاروباری شخصیت مدھو گوپل اگروال کی طرف سے دائر کیا گیا تھا، جس میں 9 کروڑ روپے کے چیک باؤنس کا الزام شامل ہے۔ وکیل بھاسکر اپادھیائے کے مطابق یہ تنازعہ 2012 میں فلم اٹا پٹا لاپٹا کے میوزک لانچ کے دوران ایک اختلاف سے شروع ہوا، جس میں امیتابھ بچن بھی موجود تھے۔
مذکورہ وکیل کے مطابق اگروال نے راجپال کو فلم کی تیاری کے لیے 5 کروڑ روپے قرض دیے تھے اور اس کے بعد کئی معاہدے طے پائے۔ آخری معاہدے کے تحت راجپال نے 5 چیک جاری کیے تھے جو دسمبر 2012 سے پیش کیے جانے تھے۔
میوزک لانچ کے دن راجپال کی ٹیم نے اس بات کی مخالفت کی کہ اگروال اسٹیج پر امیتابھ بچن کے ساتھ شریک ہوں، جس سے اگروال ناراض ہو گئے اور عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا۔ بعد میں ایک رضامندی معاہدہ طے پایا جس کے تحت پچھلے تمام معاہدے منسوخ کر دیے گئے۔
2016 میں ایک نیا رضامندی معاہدہ منظور ہوا، جس کے تحت 10.
یہ بھی پڑھیں:کروڑوں روپے کمانے والے راجپال یادیو کنگال کیسے ہوگئے؟
راجپال کے وکیل کا کہنا ہے کہ عدالت میں معاملہ اب بھی زیر التوا ہے اور عبوری ضمانت ملنے کے باوجود قانونی جنگ جاری ہے، اور ان کا موقف عدالت میں مکمل طور پر سنا جانا باقی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امیتابھ بچن چیک باؤنس کیس راجپال یادو
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امیتابھ بچن چیک باؤنس کیس راجپال یادو
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔