ہم نے کال دی تو کوئی روکنے والا نہیں ہو گا، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
پشاور پریس کلب میں نو منتخب صحافیوں کی باڈی سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم نے اسلام آباد میں اس ایشو پر چار سے پانچ دن تک پرامن دھرنا دیا مگر بدقسمتی سے جو بے حس لوگ پاکستان پر قابض ہیں یا مسلط کیے گئے ہیں انھوں نے بہت ہی بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ اگر ہم نے کال دی تو ہمیں کوئی روکنے والا نہیں ہو گا مگر ہم عمران خان کی صحت پر سیاست نہیں کرنا چاہتے۔ پشاور پریس کلب میں نو منتخب صحافیوں کی باڈی سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم نے اسلام آباد میں اس ایشو پر چار سے پانچ دن تک پرامن دھرنا دیا مگر بدقسمتی سے جو بے حس لوگ پاکستان پر قابض ہیں یا مسلط کیے گئے ہیں انھوں نے بہت ہی بے حسی کا مظاہرہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان کو ان کے ذاتی معالج سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، حالانکہ یہ کوئی ناجائز مطالبہ نہیں بلکہ بنیادی حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں نے بھی عمران خان کے علاج کا حکم دیا، یک رکنی کمیشن نے آنکھ کے مسئلے کی تصدیق کی، اور وزراء نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا، مگر اس کے باوجود عمران خان کی آنکھ کا مناسب علاج نہیں ہو رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت عمران خان کے ذاتی معالجین کو ملاقات کی اجازت نہیں دیتی تو یہ شبہ پیدا ہو گا کہ حکومت کچھ چھپا رہی ہے۔ وزیر اعلی سہیل آفریدی نے ماضی کی نواز شریف کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جعلی پلیٹلٹس گرا کر سابق وزیر اعظم کو جانے دیا گیا، اور پھر واپسی پر ایئرپورٹ پر عدالت پہنچی مگر عمران خان کے معاملے میں عدالتیں بھی اڈیالہ جیل میں قید ہو کر رہ گئی ہیں۔ سہیل آفریدی نے حکومتی اخراجات پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ تیراہ کے متاثرین کے لیے چار ارب روپے مختص کرنے پر پورا میڈیا ان کے خلاف ہو گیا، مگر پنجاب کی جعلی وزیر اعلیٰ نے 37 ملین ڈالر سے طیارہ خریدا اور میڈیا خاموش رہا۔ انھوں نے الزام لگایا کہ عیاشی اور مری کے دوروں کے لیے یہ ایک مہنگا اسرائیلی طیارہ خریدا گیا ہے، جبکہ عوامی فلاح کے منصوبوں کے لیے وفاقی حکومت فنڈز فراہم نہیں کرتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔