پارٹی کے اندرونی معاملات اچھے ہوتے تو عمران خان جیل سے باہر ہوتے، علی امین گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں بھی اس چیز کا گناہ گار ہوں کہ کیا وجہ ہے کہ اتنی سپورٹ اور شہرت کے باوجود ناکام ہو رہے ہیں بار بار، یا تو ہمارے نیتوں میں فرق ہے یا پھر آپس کے اختلاف ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے اندرونی معاملات اچھے ہوتے تو بانی چیئرمین پی ٹی آئی جیل سے باہر ہوتے،قانون و انصاف نہیں ہے ملک کا نظام ٹھیک نہیں ہے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں بھی اس چیز کا گناہ گار ہوں کہ کیا وجہ ہے کہ اتنی سپورٹ اور شہرت کے باوجود ناکام ہو رہے ہیں بار بار، یا تو ہمارے نیتوں میں فرق ہے یا پھر آپس کے اختلاف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے کاموں میں لگے ہوئے ہیں جو مقصد سے ہٹ کر ہیں، ہم بے وقوفی پر لگے ہوئے نادانی میں لگے ہوئے ہیں استعمال ہورہے ہیں جو بھی وجہ ہے، نتائج جو بھی وجہ اس کا نتیجہ کیا نکل رہا ہے وہ دیکھنا چاہیے۔
علی امین نے کہا کہ ہمارا ہر کسی کے لیے احترام ہے، جب میرے لیڈر پرسخت وقت ہوگا اسے تکلیف ہوگی، اس کے لئے میں اگر غصہ میں بات کرتا ہوں تو لوگوں کو برداشت کرنا چاہیے، بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی رہائی کے لئے کتنی پریشر سے کمپین شروع کی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم آج ادھر کھڑے ہوئے ہیں ہمیں ہوش کے ناخن لینے چاہیے، میں جو بھی کر رہا ہوں بانی چیئرمین پی ٹی آئی کے لئے کر رہا ہوں، ہماری غلطیاں تو ہیں، بانی پی ٹی آئی عمران خان معالج کی رسائی مانگ رہا ہے وہ ہم نہیں کر پا رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پریشر باتوں سے نہیں رویہ سے بنتا ہے، آپ کی طاقت سے بنتا ہے آپ کیا کر سکتے ہیں، ڈائیلاگ ٹک ٹاک بنانے سے فرق پڑتا تو آج یہ حال نہ ہوتا، خان صاحب کی رہائی دور کی بات آج معالج بھی نہیں مل رہا، میں پہلے بھی خاموش نہیں تھا میں وزیر اعلیٰ تھا۔
سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ اس وقت ایک ورکر ہوں نہ سیاسی کمیٹی کا حصہ ہوں نہ ہی کوئی عہدہ ہے، میں اپنے حلقہ میں تھا پاکستان کی سب سے بڑی ریلیاں کر رہا تھا، چیلنج کرتا ہوں میری ریلی سب سے بڑی نہ ہوئی تو کہیں میں خاموش تھا۔ انہوں نے کہا کہ کال دی گئی میں سب سے پہلے آیا، کیمرے لگے ہوئے تھے، سب سے زیادہ ایکٹویٹی بھی میں نے کی تھی، یہاں آیا ہوں پانچ دنوں میں بارہ گھنٹے نہیں سویا، پھر حکم ہوا کہ چلے جاؤ میں کیا کرتا، کوئی وجہ ہے تو ہمارا پریشر کم ہوا اور بانی کو مشکلات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پریشر بناؤ یہ کہنا گناہ ہے تو میں کرونگا، میں جگاونگا ان لوگوں کو مسئلے حل نہیں ہورہے ہیں، کوشش تو کرو یہ نہیں ہوسکتا کہ ٹی وی پروگرام میں بیٹھ جاؤ، آپ کے عمل سے سارا کچھ ہوتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ان کا کہنا تھا کہ نے کہا کہ لگے ہوئے وجہ ہے
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
گلگت: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں. امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں. جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں. میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں. گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے.
قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ انہیں کون سمجھائے کہ بھٹو کے 70ء کے دور میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں سے پچاس ہزار میگا واٹ تک بجلی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہاں ایک پروفیسر یہ کہہ کر خوش ہورہا ہے کہ یہاں سو میگا واٹ بجلی دینا میرے داہنے ہاتھ کا کام ہے، اگر داہنے ہاتھ کا کام ہے تو کیا کیوں نہیں؟ ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے اپنی بجلی پیدا کریں گے اور اسلام کو فروخت کریں گے.پروفیسر کو فروخت کریں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔