امریکی سپریم کورٹ کی پابندی کے باوجود ٹرمپ کا عالمی سطح پر 10 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے وسیع ٹیرف غیر قانونی قرار دینے کے بعد انہوں نے تمام تجارتی شراکت داروں پر اضافی 10 فیصد عالمی ٹیرف نافذ کرنے کا اعلان کر دیا۔
عدالتِ عظمیٰ نے 6 کے مقابلے میں 3 ججوں کی اکثریت سے فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ 1977 کے قانون ‘انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ’ کے تحت ٹیرف عائد کرنا صدر کے اختیارات سے تجاوز تھا۔ عدالت نے کہا کہ اگر کانگریس ٹیرف لگانے کا غیر معمولی اختیار دینا چاہتی تو وہ اسے واضح طور پر قانون میں شامل کرتی۔
یہ بھی پڑھیے: امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ: ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کالعدم قرار
فیصلے کے بعد وائٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے صدر کے تجارتی اختیارات کو کم نہیں بلکہ مزید واضح اور مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے بعض ججوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مفاد میں درست فیصلہ نہ کرنے پر انہیں شرمندگی ہے۔
ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ وہ متبادل قانونی اختیارات استعمال کرتے ہوئے نئے ٹیرف نافذ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر کو قومی مفاد کے تحفظ کے لیے مزید بلند شرح سے ٹیرف عائد کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو 10 سے 15 دن کی ڈیڈ لائن، معاہدہ نہ ہوا تو ’سنگین نتائج‘ کی دھمکی
امریکی آئین کے مطابق ٹیکس اور ٹیرف عائد کرنے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے، تاہم ٹرمپ نے کانگریس کی منظوری کے بغیر مذکورہ قانون کے تحت تقریباً تمام تجارتی شراکت داروں پر درآمدی محصولات نافذ کیے تھے۔
ماہرین کے مطابق ان ٹیرف سے آئندہ 10 برسوں میں کھربوں ڈالر آمدن متوقع تھی، جبکہ عدالتی فیصلے کے بعد تقریباً 175 ارب ڈالر کی وصولی کی واپسی کا امکان بھی پیدا ہو گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ ٹیرف عائد کرنے کا
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔