فیصلے میں کہا گیا کہ ٹرمپ نے جس قانون کے تحت اضافی ٹیرف لگائے، وہ قومی ایمرجنسی کے لیے بنایا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اضافی ٹیرف نافذ کرتے وقت اختیارات سے تجاوز کیا۔ یہ قانون ٹرمپ کو اضافی ٹیرف لگانے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی سپریم کورٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دے دیا۔ امریکی سپریم کورٹ نے دوسرے ملکوں پر پچھلے سال لگائے گئے صدر ٹرمپ کے اضافی ٹیرف غیر قانونی قرار دے دیئے۔ 3 کے مقابلے میں 6 ججوں کی اکثریت نے فیصلہ سنایا۔ جسے چیف جسٹس جان رابرٹس نے تحریر کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ٹرمپ نے جس قانون کے تحت اضافی ٹیرف لگائے، وہ قومی ایمرجنسی کے لیے بنایا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اضافی ٹیرف نافذ کرتے وقت اختیارات سے تجاوز کیا۔ یہ قانون ٹرمپ کو اضافی ٹیرف لگانے کی اجازت نہیں دیتا۔ سپریم کورٹ کا اکثریتی فیصلہ جان رابرٹس نے تحریر کیا، جس میں کہا گیا کہ صدر کی جانب سے "لا محدود مقدار، مدت اور دائرہ کار" کے ٹیرف لگانے کا دعویٰ غیر معمولی اختیار ہے، جس کے لیے واضح قانونی بنیاد ضروری ہے۔ عدالت نے کہا کہ جس ہنگامی اختیار کا سہارا لے کر ٹیرف لگائے گئے، وہ اس حد تک طاقت استعمال کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

میڈیا رپورٹ میں کہا گیا کہ ماہرین کے مطابق فیصلے سے رواں سال کیے گئے تجارتی معاہدوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے، فیصلے نے نئی حد مقرر کر دی کہ صدر کانگریس کی منظوری کے بغیر کن پالیسیوں کا نفاذ کرسکتے ہیں، واضح نہیں کہ دیگر ممالک اس فیصلے پر کیا ردعمل دیں گے۔ فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نافذ وسیع تجارتی اقدامات کالعدم ہوگئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے پر صدر ٹرمپ کا ردِعمل اب تک سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم وہ فیصلے سے پہلے ہی امریکی عدالت کو خبردار کرچکے ہیں کہ ٹیرف غیر قانونی قرار دیئے تو اثرات سنگین ہوں گے، امریکا کے لیے ٹیرف ری فنڈ کی رقم ادا کرنا ناممکن ہوگا۔ ماہرین کے مطابق امریکی حکومت ٹیرف واپس لینے کے بجائے قانون تبدیل کرنے کی کوشش کرے گی۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین، بھارت، پاکستان اور برطانیہ سمیت متعدد ملکوں پر یہ ٹیرف عائد کیے تھے۔ امریکی میڈیا کے مطابق گلوبل ٹیرف صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی اور اکانومک ایجنڈے کا مرکزی پارٹ ہے، سپریم کورٹ کے فیصلے کو ٹرمپ کے دوسرے دورِ صدارت کا بڑا نقصان کہا جا رہا ہے۔ عدالت نے فیصلے میں اس موضوع پر بات نہیں کی کہ 14 دسمبر تک وصول کی گئی 134 ارب ڈالرز کی رقم کا کیا بنے گا۔؟ ماہرین کے مطابق یہ معاملہ چھوٹی عدالتوں میں زیرِ بحث آسکتا ہے، صدر ٹرمپ نے 2025ء میں بھارت اور برازیل جیسے ملکوں پر 50 فیصد جبکہ چین پر 145 فیصد ٹیرف لگایا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: میں کہا گیا کہ اضافی ٹیرف سپریم کورٹ کے مطابق ٹرمپ کے کے لیے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل