امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ: ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کالعدم قرار
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
امریکی سپریم کورٹ نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں نافذ کیے گئے ٹیرف اقدامات کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ یہ اقدامات وفاقی قانون اور تجارتی اصولوں کے منافی تھے اور امریکی معیشت اور صارفین پر غیر ضروری بوجھ ڈال رہے تھے۔ اس فیصلے کے بعد ملکی اور بین الاقوامی تجارتی تعلقات میں اہم تبدیلیاں متوقع ہیں۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ سابقہ انتظامیہ کی جانب سے درآمدات پر عائد کیے گئے ٹیرفز قانونی حدود سے تجاوز کرتے تھے۔ عدالت کے مطابق یہ اقدامات کانگریس کی منظوری کے بغیر نافذ کیے گئے اور امریکی آئین کے تجارتی ضوابط کے خلاف تھے۔
اثرات برآمدات اور درآمدات پرماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے امریکہ میں درآمدات پر اضافی مالی بوجھ ختم ہو جائے گا اور بین الاقوامی تجارتی شراکت داروں کے ساتھ تعلقات بہتر ہوں گے۔ خاص طور پر چین اور یورپی ممالک کے ساتھ تجارتی معاہدوں میں نرمی آنے کے امکانات ہیں۔
سیاسی اور اقتصادی ردعملٹرمپ کی پارٹی کے رہنما فیصلے پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور اسے سابق صدر کے اقتصادی منصوبوں پر نقصان قرار دے رہے ہیں، جبکہ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے امریکی صارفین اور کاروباری اداروں کو قیمتوں میں کمی اور مارکیٹ میں استحکام حاصل ہوگا۔
عالمی سطح پر ردعملبین الاقوامی تجارتی حلقوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا ہے کیونکہ اس سے تجارتی رکاوٹیں کم ہوں گی اور عالمی مارکیٹ میں امریکی مصنوعات کی مسابقت بہتر ہو گی۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ عالمی تجارتی نظام کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
ویب ڈیسک :وفاقی بجٹ پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ اب پانچ جون کو پیش نہیں کیا جائے گا، وفاقی بجٹ 8 یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے، حتمی تاریخ کا تعین ابھی نہیں ہو سکا۔
آئی ایم ایف کے ساتھ پی ایس ڈی پی اور بجٹ مذاکرات ابھی جاری ہیں جس کی وجہ سے بجٹ پیش کرنے کی تاریخ میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
ذرائع کے مطابق کل وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی مؤخر کر دیا گیا ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی جانا تھی۔
قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ اور وزرائے خزانہ کی شرکت متوقع تھی، وزیراعظم آزادکشمیر نے بھی اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔
وزیراعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے کا اضافہ بھی کیا جارہا ہے، ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب کے اضافے پر آئی ایم ایف کو بھی آگاہ کیا جائے گا، مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے200 ارب کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
قومی اقتصادی کونسل میں 4715 ارب کا ترقیاتی بجٹ پیش کئے جانے کا امکان ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ 1126کے بجائے 1326 ارب روپے ہونے کا امکان ہے۔
اجلاس میں صوبوں کیلئے 3138 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ بھی پیش کیا جائے گا، قومی اقتصادی کونسل میں پنجاب کا 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، سندھ کیلئے 816، خیبرپختونخوا کیلئے 564 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا، بلوچستان کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ