بھارت امریکہ تجارتی معاہدہ کشمیر کے باغبانی شعبے کو تباہ کردیگا، محبوبہ مفتی
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ باغبانی کا شعبہ جموں و کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور لاکھوں خاندانوں کا ذریعۂ معاش ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ بھارت - امریکہ تجارتی معاہدہ جموں و کشمیر کے باغبانی شعبے اور ملک کی وسیع زرعی معیشت پر سنگین اثرات مرتب کرے گا۔ سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ نے کہا "باغبانی کا شعبہ جموں و کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور لاکھوں خاندانوں کا ذریعۂ معاش ہے"۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ تجارتی معاہدہ اپنی موجودہ شکل میں نافذ ہوا تو ہم معاشی طور پر کمزور ہو جائیں گے اور بے روزگاری میں اضافہ ہوگا۔ محبوبہ مفتی نے دعویٰ کیا کہ درآمد شدہ سیبوں کی آمد نے پہلے ہی مقامی منڈیوں میں پریشانی پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے ایران سے آنے والے سیبوں کا حوالہ دیتے ہوئے الزام عاید کیا کہ قیمتوں کے فرق کی وجہ سے مقامی پیداوار کو مارکیٹ میں مقابلہ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی کسانوں کو اپنی حکومت کی جانب سے بھاری سبسڈی ملتی ہے، جس کی وجہ سے کشمیری باغبانوں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا سیب بھاری سبسڈی والے امریکی سیب کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ یہ تجارتی معاہدہ سنگین نتائج کا حامل ہوگا۔ پی ڈی پی کی صدر نے وزیراعظم نریندر مودی سے مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کرنے کی اپیل کی اور انہوں نے اس معاہدہ کو کسانوں اور باغبانی شعبے سے وابستہ افراد کے مفادات کے منافی قرار دیا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ملک سے باہر سے آنے والے سیبوں پر کم از کم 50 فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کی جائے تاکہ مقامی کاشتکاروں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ باغبانی سے وابستہ افراد اپنے مستقبل کے حوالے سے فکرمند ہیں اور مرکز سے مطالبہ کیا کہ کسی بھی تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے سے قبل کسانوں کے روزگار کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: تجارتی معاہدہ محبوبہ مفتی نے کہا کہ انہوں نے کیا کہ
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز