سپریم کورٹ کا فیصلہ شرمناک ہے، صدر ٹرمپ کا سخت ردعمل کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے شرمناک قرار دے دیا۔
عالمی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی صدرنے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف ملک کے لئے بلکہ عام عوام کے مفاد کے خلاف ہے اورعدالتوں کو اس معاملے میں فعال کردارادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے ٹیرف فیصلے کے بعد ان کے پاس ایک مکمل بیک اپ پلان موجود ہے تاکہ کسی بھی نقصان یا اقتصادی پیچیدگی کا سامنا کیا جا سکے۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ عدالتوں کا کچھ کرنا ضروری ہے ورنہ اس فیصلے کے اثرات طویل المدتی طورپرمحسوس ہونگے، یہ باتیں سیاسی حلقوں میں بحث کا سبب بن گئی ہیں اورمیڈیا میں ان کے ردعمل کو بڑی اہمیت دی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ اس فیصلے کے بعد امریکی معاشی اورتجارتی پالیسیوں پر بھی اثر پڑنے کا امکان ہے، جس کی نگرانی واشنگٹن اور دیگراقتصادی ادارے کررہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔