امریکا اور 58 ممالک کے 61 فیصد شہریوں نے اسرائیلی وزیراعظم کو ناپسندیدہ ترین شخصیت قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا اور یورپ سمیت 58 ممالک کے 61 فیصد شہریوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی مخالفت کرتے ہوئے انہیں ناپسندیدہ ترین شخصیت قرار دے دیا۔
عالمی میڈیا تفصیلات کے مطابق گیلپ انٹرنیشنل نے نیاسروے جاری کر دیا جس کے مطابق بینجمن نیتن یاہو کو عالمی سطح پر ناپسند کرنے والوں کی مجموعی شرح 2019 کے مقابلے میں 20 فیصد بڑھی ہے۔
سروے میں امریکا اور یورپ سمیت 58 ممالک کے 61 فیصد شہریوں نے اسرائیلی وزیراعظم کو ناپسندیدہ ترین شخصیت قرار دیا۔
سروے میں لوگوں نے فلسطینیوں کے خلاف انسانیت سوز مظالم میں اسرائیلی وزیراعظم کے کردار کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
گیلپ انٹرنیشنل کے سروے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کو سب سے زیادہ ناپسندیدہ ایران کے 98 فیصد شہریوں نے کہا۔اس کے علاوہ یورپی ممالک میں بھی ناپسندیدگی کی شرح زیادہ دکھائی دی ۔
برطانیہ میں 52فیصد ،امریکا میں 42فیصد افراد نیتن یاہو کےلیے کھل کر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے نظر آئے۔
سروے کے مطابق پاکستان میں 49 فیصد نے اسرائیلی وزیر اعظم کو ناپسندیدہ ترین شخصیت قرار دیا۔
اس کے برعکس آذربائیجان ، کینیا، اور بھارت میں نیتن یاہو کو زیادہ حمایت ملی ۔کینیا اور آذربائیجان میں 58 فیصد ، بھارت میں 50فیصد نے اسرائیلی وزیر اعظم کی حمایت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ناپسندیدہ ترین شخصیت قرار اسرائیلی وزیراعظم فیصد شہریوں نے نے اسرائیلی نیتن یاہو کے مطابق
پڑھیں:
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
سٹی 42: حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دیا،
پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے کا اضافہ شہریوں نے قیمتوں میں اضافہ مسترد کردیا۔ حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کردیا۔
شہری کا کہنا تھا کہ کس قانون کے تحت حکومت روزانہ پیٹرول کی قیمت بڑھا رہی ہے۔کمی پیسوں میں کی جاتی ہے جبکہ اضافہ بھاری کیا جاتا ہے۔پیٹرول کی اضافی قیمت کی وجہ روز مرہ زندگی بری طرح متاثر ہوکررہ گئی ہے، ہیجانی سی کیفیت ہوتی ہے کہ آج حکومت پیٹرول کتنا مہنگا کرے گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
شہریوں کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی روزانہ کی بنیاد پر اضافے نے نفسیاتی اور ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے ۔ غریب شہریوں کو تنخواہ ماہانہ ملتی ہے جبکہ پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی سارے بجٹ کو ہلا دیتی ہے ۔ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں اور دیگر اخراجات میں بھی اضافہ ہوجاتاہے ۔ حکومت کو اپنے فیصلے پر غور کرنا چاہیے ۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ