Express News:
2026-07-24@02:40:23 GMT

رمضان ، طلبہ کی مشکلات اور تعلیم میں توازن

اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT

رمضان المبارک صرف عبادت اور روزوں کا مہینہ نہیں بلکہ صبر، برداشت، ہمدردی اور معاشرتی تربیت کا بھی مقدس وقت ہے۔ ایک اسلامی معاشرے میں رمضان کی اہمیت صرف عبادت میں نہیں بلکہ روزمرہ کے معمولات، تعلیمی نظام اور سماجی رویوں میں بھی محسوس کی جاتی ہے۔

گھروں کی روایات بدل جاتی ہیں، سحری اور افطار کے اوقات معمولات پر اثر ڈالتے ہیں، اور بچوں کے لیے یہ مہینہ خوشی اور روحانی سکون کا سبب بنتا ہے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام خصوصاً نجی سیکنڈری اسکول رمضان کی ضرورتوں اور بچوں کے حالات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

اس وقت ملک کے کئی اسکولوں میں رمضان کے دوران امتحانات اور صبح سویرے کے اوقات کار جاری ہیں، جو بچوں اور والدین دونوں کے لیے ذہنی اور جسمانی دباؤ کا سبب بنتے ہیں۔

بچے رات کے وقت عبادات، تراویح اور سحری میں حصہ لیتے ہیں، جس کے باعث دیر سے سوتے ہیں۔ صبح امتحان یا کلاس کے لیے جلدی اٹھنا ان کے لیے ایک مشکل مرحلہ بن جاتا ہے۔

نتیجتاً نہ صرف ان کی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ تعلیمی کارکردگی بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔ والدین اکثر پریشانی کے عالم میں بچوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ یا تو روزہ چھوڑیں یا امتحان کے لیے دیر سے جا کر تھکان سہیں۔

تعلیم کا مقصد صرف نصاب مکمل کرنا نہیں بلکہ صحت مند اور متوازن شخصیت کی تربیت بھی ہے، اگر طالب علم ذہنی دباؤ، نیند کی کمی اور جسمانی تھکن کا شکار ہو تو تعلیم کے نتائج متاثر ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی مسلم ممالک رمضان میں اسکول کے اوقات کم یا دیر سے شروع کر دیتے ہیں تاکہ طلبہ عبادت، صحت اور تعلیم کے درمیان توازن قائم رکھ سکیں۔

چند ہفتے قبل موسمِ سرما میں طلبہ کی سہولت کے لیے سندھ کے وزیر تعلیم سردار شاہ نے اسکول کے اوقات صبح نو بجے مقرر کیے تھے، جسے والدین، اساتذہ اور طلبہ نے سراہا۔

یہ قدم اس بات کا ثبوت تھا کہ اگر پالیسی ساز طلبہ کی فلاح اور آسانی کو ترجیح دیں تو مثبت تبدیلی ممکن ہے۔ اسی سوچ کو رمضان میں بھی اپنانے کی ضرورت ہے۔

خصوصاً رمضان میں دیر سے اسکول شروع کرنا (صبح 10 یا 11 بجے) ایک عملی اور متوازن حل ہے۔ اس سے بچے مکمل نیند لے سکیں گے، روزے کے دوران جسمانی توانائی برقرار رہے گی اور عبادات میں بھی شریک رہ سکیں گے۔

امتحانی شیڈول کو مختصر کرنا یا نصف دن کے اوقات مقرر کرنا بھی ایک متوازن حل ہے۔

اساتذہ بھی روزے کی حالت میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ طویل اوقات کار ان کی کارکردگی متاثر کرتے ہیں، جس کا براہ راست اثر طلبہ پر پڑتا ہے۔

اصلاح نہ صرف بچوں کے لیے بلکہ پورے تعلیمی ماحول کے لیے ضروری ہے۔ والدین، اساتذہ اور سماجی کارکن اس بات پر متفق ہیں کہ بچوں کی صحت اور ذہنی سکون کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔

آج کے بچے ہی کل کا مستقبل ہیں، اگر ہم ان کی جسمانی توانائی اور ذہنی سکون کو نظر انداز کریں گے تو مستقبل کی بنیاد کمزور ہوگی۔

نجی اسکولوں کی طرف سے اکثر کہا جاتا ہے کہ تعلیمی سال مکمل کرنا ضروری ہے اور امتحانات ملتوی نہیں کیے جا سکتے۔

مگر کیا واقعی یہ ممکن نہیں کہ رمضان کے دوران امتحانات یا کلاسز کے اوقات کو مؤخر کیا جائے؟ کم از کم صبح دیر سے شروع کرنا اور روزانہ کے دورانیے کو نصف دن رکھنا نہ صرف بچوں کی صحت بلکہ تعلیم کے معیار کے لیے بھی مفید ہے۔

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ رمضان میں صرف بچے ہی نہیں بلکہ اساتذہ بھی روزے کی حالت میں کام کرتے ہیں۔

طویل اوقات کار اور سخت امتحانی شیڈول ان کی تدریسی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے، جس کا براہ راست اثر بچوں کی تعلیمی کارکردگی پر پڑتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ گورنمنٹ آف سندھ رمضان المبارک کے لیے واضح اور یکساں پالیسی ترتیب دے۔

نجی و سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے ایسے اصول وضع کیے جائیں جس کے تحت دیر سے اسکول کا آغاز، مختصر اوقات اور امتحانات کے مناسب شیڈول کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ اقدام نہ صرف طلبہ بلکہ پورے سماج کے لیے مثبت پیغام ہوگا۔

رمضان ہمیں صبر، برداشت اور دوسروں کی مشکلات سمجھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر ہم اپنے ہی بچوں کی نیند، صحت اور ذہنی سکون کو نظر انداز کریں تو رمضان کی اصل روح سے دور ہو جائیں گے۔ بچوں کی خوشی، صحت اور تعلیم میں توازن ہی اسلام کے اصولوں کے مطابق ہے۔

تعلیمی پالیسی بنانے والوں کے لیے یہ بہترین موقع ہے کہ وہ ایک ایسا فیصلہ کریں جو نہ صرف طلبہ بلکہ پورے معاشرے کے لیے مثال بنے۔

اسکول کے اوقات میں نرمی، امتحانات کے شیڈول میں تبدیلی اور طلبہ کے لیے سہولتیں فراہم کرنا کمزوری نہیں بلکہ ایک ذمے دار ریاست کی پہچان ہے۔آخر میں کہنا چاہتی ہوں کہ رمضان کو بچوں کے لیے امتحان نہیں بلکہ آسانی، تربیت اور رحمت کا مہینہ بنایا جانا چاہیے۔ جب بچے خوش، صحت مند اور مطمئن ہوں گے تو تعلیم اور معاشرہ دونوں مضبوط ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نہیں بلکہ کے اوقات بچوں کے صحت اور بچوں کی کے لیے

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف