علیزے شاہ نے رمضان المبارک میں اپنی زندگی میں تبدیلی کا اہم اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
پاکستان شوبز انڈسٹری کی اداکارہ علیزے شاہ نے رمضان المبارک کے موقع پر اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے اور ماضی کی تلخیوں کو بھلا دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے ایک جذباتی پیغام میں اداکارہ نے اعلان کیا کہ وہ ان تمام لوگوں کو معاف کر رہی ہیں جنہوں نے انہیں تکلیف پہنچائی۔
انسٹاگرام پر 43 لاکھ سے زائد فالوورز رکھنے والی اداکارہ ماضی میں کئی تنازعات کی وجہ سے خبروں میں رہی ہیں۔ ان کا نام مختلف مواقع پر شوبز شخصیات اور میڈیا سے وابستہ افراد کے ساتھ اختلافات کے باعث زیرِ بحث آتا رہا، تاہم اب انہوں نے اس تمام مرحلے کو پیچھے چھوڑنے کا عندیہ دیا ہے۔
اپنی پوسٹ میں علیزے شاہ نے اعتراف کیا کہ گزشتہ سال ان کی زندگی کا سب سے مشکل دور تھا۔ انہوں نے لکھا کہ وہ خود کو روحانی طور پر کمزور اور بھٹکا ہوا محسوس کرتی تھیں، لیکن اس سال بالخصوص رمضان کے بابرکت مہینے میں انہوں نے ایک نیا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اداکارہ کے مطابق وہ اپنے دل کو نرم کرنا چاہتی ہیں اور سکونِ قلب کے لیے سب کو معاف کر رہی ہیں، چاہے وہ لوگ اس کے مستحق ہوں یا نہیں۔
View this post on InstagramA post shared by @alizehshahofficial
انہوں نے مزید لکھا کہ وہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے معافی کی طلب گار ہیں اور امید رکھتی ہیں کہ جس طرح وہ دوسروں کو معاف کرنا سیکھ رہی ہیں، اسی طرح انہیں بھی بخش دیا جائے گا۔ علیزے شاہ نے اس مشکل وقت میں اپنے والدین کے صبر اور حوصلے کو بھی اپنی طاقت قرار دیا۔
اداکارہ نے اپنے پیغام میں یہ بھی کہا کہ بعض اوقات انسان کو اپنی غلطیوں کا احساس ہوتا ہے مگر غرور اسے سچ قبول کرنے سے روک دیتا ہے، جس کے نتیجے میں وہ خود اپنی کہانی کا منفی کردار بن جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے مداحوں کو نصیحت کی کہ پچھتاوے کو توبہ پر غالب نہ آنے دیں اور جب بھی احساس ہو، فوراً واپس لوٹ آئیں اور دوسروں کو معاف کردیں۔
سوشل میڈیا صارفین کی بڑی تعداد نے علیزے شاہ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے اسے ذہنی سکون اور مثبت زندگی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: علیزے شاہ نے انہوں نے کو معاف رہی ہیں
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔