Al Qamar Online:
2026-07-24@01:12:39 GMT

جمائمہ کی طلاق میں علیمہ خان کا ہاتھ ہے، شیر افضل مروت

اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT

جمائمہ کی طلاق میں علیمہ خان کا ہاتھ ہے، شیر افضل مروت

لاہور:سینئر سیاسی رہنما شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا ہے کہ مارچ 2026 سہیل آفریدی کی وزارت کا آخری مہینہ ہوگا۔

پاکستان تحریکِ انصاف سے وابستہ اور سینئر سیاسی رہنما شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ علیمہ خان پر اتنی مہربانی کیوں ہو رہی ہیں؟

 انھوں نے سہیل آفریدی کی بھی واٹ لگائی ہے، ریلیز فورس بنانا بھی علیمہ خان کا ہی مطالبہ تھا، بانی پی ٹی آئی کی زندگی میں ان کی بہن نے تباہی مچائی ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جمائمہ کی طلاق میں بھی علیمہ خان کا ہاتھ ہے، لڑائیاں، فتنہ اور شر پھیلانا ان کا کام ہے۔

 بشری بی بی اور علیمہ خان کے درمیان راضی نامے کے لیے اوورسیز سے پاکستانی آئے، علیمہ خان اور بشری بی بی ہاتھ نہیں ملاتیں۔

شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا کہ علیمہ خان بتا دیں کہ انھوں نے ہار نہیں لیا ہے، بتائیں کہ وہ ہار کدھر گیا؟ علیمہ خان اسپتال کی 5 سو کنال زمین بھی کھا گئیں، اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں تو علیمہ خان میرے خلاف کیس کردیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی اربوں ڈالرز کی انڈسٹری ہے، 23 مارچ 2024 میں سرینا میں میٹنگ ہوئی تھی۔

 بانی تحریکِ انصاف نے منع کیا تھا کہ یہ زبان بھی نہیں کھولیں گی، علیمہ خان گالم گلوچ بریگیڈ کو ٹارگٹ دیتی ہیں، وہ بانی پی ٹی آئی کی فیملی میں سب سے امیر فرد ہیں۔

شیرافضل مروت نے مزید کہا کہ علیمہ خان کا نمل یونیورسٹی میں بڑا عمل دخل ہے، محترمہ اربوں کی ڈونیشن کھا چکی ہیں، خان کی رہائی کی ہر ڈیل علیمہ خان نے خراب کرائی۔ علیمہ خان کو افواہوں کی وائی فائی کہا جاتا ہے۔

ا

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل شیر افضل مروت علیمہ خان کا افضل مروت نے انھوں نے

پڑھیں:

نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی

راولپنڈی:

ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔

متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔

والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔

قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔

متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی