جمائمہ کی طلاق میں علیمہ خان کا ہاتھ ہے، شیر افضل مروت
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
لاہور:سینئر سیاسی رہنما شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا ہے کہ مارچ 2026 سہیل آفریدی کی وزارت کا آخری مہینہ ہوگا۔
پاکستان تحریکِ انصاف سے وابستہ اور سینئر سیاسی رہنما شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ علیمہ خان پر اتنی مہربانی کیوں ہو رہی ہیں؟
انھوں نے سہیل آفریدی کی بھی واٹ لگائی ہے، ریلیز فورس بنانا بھی علیمہ خان کا ہی مطالبہ تھا، بانی پی ٹی آئی کی زندگی میں ان کی بہن نے تباہی مچائی ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جمائمہ کی طلاق میں بھی علیمہ خان کا ہاتھ ہے، لڑائیاں، فتنہ اور شر پھیلانا ان کا کام ہے۔
بشری بی بی اور علیمہ خان کے درمیان راضی نامے کے لیے اوورسیز سے پاکستانی آئے، علیمہ خان اور بشری بی بی ہاتھ نہیں ملاتیں۔
شیر افضل مروت نے دعویٰ کیا کہ علیمہ خان بتا دیں کہ انھوں نے ہار نہیں لیا ہے، بتائیں کہ وہ ہار کدھر گیا؟ علیمہ خان اسپتال کی 5 سو کنال زمین بھی کھا گئیں، اگر میں جھوٹ بول رہا ہوں تو علیمہ خان میرے خلاف کیس کردیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی اربوں ڈالرز کی انڈسٹری ہے، 23 مارچ 2024 میں سرینا میں میٹنگ ہوئی تھی۔
بانی تحریکِ انصاف نے منع کیا تھا کہ یہ زبان بھی نہیں کھولیں گی، علیمہ خان گالم گلوچ بریگیڈ کو ٹارگٹ دیتی ہیں، وہ بانی پی ٹی آئی کی فیملی میں سب سے امیر فرد ہیں۔
شیرافضل مروت نے مزید کہا کہ علیمہ خان کا نمل یونیورسٹی میں بڑا عمل دخل ہے، محترمہ اربوں کی ڈونیشن کھا چکی ہیں، خان کی رہائی کی ہر ڈیل علیمہ خان نے خراب کرائی۔ علیمہ خان کو افواہوں کی وائی فائی کہا جاتا ہے۔
ا
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل شیر افضل مروت علیمہ خان کا افضل مروت نے انھوں نے
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔