سعودی عرب میں یوم تاسیس کا رنگا رنگ آغاز، 300 سالہ تاریخ کے جشن میں شہر جگمگا اٹھے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
ریاض:
سعودی عرب میں یوم تاسیس کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا، جہاں دارالحکومت ریاض سمیت مختلف شہروں کی بلند و بالا عمارتوں کو قومی رنگوں سے سجا دیا گیا اور فضاء جشن کے نعروں سے گونج اٹھی۔
سعودی شہری پہلی سعودی ریاست کے قیام کے 300 سال مکمل ہونے پر تاریخی دن کو بھرپور جوش و خروش سے منا رہے ہیں جبکہ ملک بھر میں ثقافتی پروگرامز، موسیقی اور عوامی تقریبات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
اس دن کو باقاعدہ قومی سطح پر منانے کی منظوری شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے 2022 میں دی تھی۔
تاریخی طور پر پہلی سعودی ریاست کی بنیاد امام محمد بن سعود نے 1744 میں رکھی جس کی یاد میں ہر سال یوم تاسیس منایا جاتا ہے۔
حکومت کی جانب سے آج سرکاری تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ ملک بھر میں خصوصی شوز، ثقافتی مظاہرے اور موسیقی کی محافل جاری ہیں جہاں سعودی فنکار اور نوجوان بڑی تعداد میں شریک ہو کر قومی تاریخ کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔