کراچی؛ نارتھ ناظم آباد میں گیس سلنڈر دھماکہ سے رہائشی عمارت میں آگ بھڑک اٹھی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
کراچی:
کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد، بلاک ڈی فائیو اسٹار چورنگی کے قریب واقع بسم اللہ ریزیڈنسی میں رہائشی فلیٹ میں گیس سلنڈر کے دھماکے کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔
دھماکے کی زوردار آواز کے بعد عمارت میں رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اطلاع ملتے ہی تھانہ نارتھ ناظم آباد پولیس موقع پر پہنچا اور حفاظتی اقدامات شروع کیے، جبکہ فائر اینڈ ریسکیو ٹیم اور ایمبولینسز کو بھی طلب کیا گیا۔
فائر بریگیڈ کی دو گاڑیاں اور ایک باؤزر آگ بجھانے کے لیے تعینات کیے گئے، اور عمارت میں موجود رہائشیوں کی محفوظ منتقلی کا عمل جاری ہے۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے فوری طور پر پولیس حکام کو جائے وقوعہ پر پہنچنے اور ریسکیو آپریشن کی نگرانی کرنے کا حکم دیا، جبکہ متاثرہ عمارت اور اطراف کے علاقوں کو محفوظ بنانے کے لیے حفاظتی اقدامات یقینی بنائے گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ گیس کے اخراج کی وجہ سے ہوا۔ شواہد اکٹھے کرنے کے بعد آگ لگنے کی مکمل وجوہات کا تعین کیا جائے گا۔ مزید معلومات موصول ہونے پر عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔