WE News:
2026-06-02@20:43:22 GMT

ذوالفقار علی بھٹو کا مصور دوست

اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT

معروف شاعر اور فکشن نگار سید کاشف رضا نے ایک فیس بک پوسٹ میں نامور صحافی اور ادیب شفیع عقیل کو یاد کیا تو ساتھ ہی ان کے علمی و ادبی کام کے ایک ایسے پہلو کا ذکر بھی کیا جو اردو لکھنے والوں میں شفیع عقیل کی ایک طرح کی انفرادیت رہی۔

شفیع عقیل ان گنے چنے لکھاریوں میں شامل تھے جنہوں نے اردو میں مصوروں اور مصوری پر جم کر لکھا اور ان موضوعات پر ان کی کتابیں بھی شائع ہوئیں۔ ان سے مصوروں کے ادب اور ادیبوں سے گہرے سمبندھ کا صحیح معنوں میں اندازہ ہوتا ہے۔

ایک زمانے میں ادیبوں اور مصوروں میں گاڑھی چھنتی تھی لیکن اب ان میں پہلے سا ربط ضبط نہیں رہا۔

کاشف رضا کی دانست میں اس انقطاع کا نقصان دو طرفہ ہے۔ وہ ادیبوں کو دیگر فنون سے جوڑنے کے لیے شفیع عقیل کی مصوروں اور مصوری پر کتابوں کے مطالعے کو ناگزیر قرار دیتے ہیں۔

کاشف رضا کی تحریر سے میرے ذہن میں سب سے پہلے شاکر علی کا خیال آیا کیوں کہ ادیبوں سے ان کے جتنا گہرا تعلق شاید ہی کسی اور مصور کا رہا ہو۔ ان کے دروازے اہلِ قلم کے لیے کھلے رہتے تھے جن سے ان کے روابط کی تاریخ ’شاکر علی فن و شخصیت‘ میں محفوظ ہو گئی ہے۔

پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کی شائع کردہ اس کتاب میں محمد حسن عسکری، انتظار حسین، صفدر میر، انور سجاد، مظفر علی سید، سبط حسن، ڈاکٹر محمد اجمل، کشور ناہید اور سہیل احمد خان کی تحریریں شامل ہیں۔ شاکر علی اور دوسرے مصوروں کے مضامین نے اس کتاب کو اور بھی باوقعت بنادیا ہے۔

تخلیق کاروں کے شاکر علی سے فنی و شخصی تعلق کی یہ ایک وقیع دستاویز ہے جس میں وہ عہد بھی سانس لیتا دکھائی دیتا ہے جس میں ایک بڑا مصور ہمارے درمیان موجود تھا۔

اس کتاب کے دائرے سے نکل کر ہم نے کچھ اور کتابوں اور رسالوں میں تانک جھانک کرکے ادب سے باہر کی دنیا کے ایک فرد ذوالفقار علی بھٹو کے شاکر علی سے مراسم کا ذکر چھیڑنا ہے۔

اس موضوع پر کچھ لکھنے کی بہت دیر سے ٹھان رکھی تھی، تاہم حال ہی میں معروف مصور سلیمہ ہاشمی کی دو جلدوں میں شائع ہونے والی یادداشتوں نے اس ارادے کو پورا کرنے کی راہ سجھائی ہے۔

اس کتاب کی ’اینٹر سٹیج لیفٹ‘ کے عنوان سے دوسری جلد میں سلیمہ ہاشمی نے بھٹو کی آرٹس سے دلچسپی کا تذکرہ کرتے ہوئے شاکر علی کے حوالے سے بتایا ہے کہ پراگ سے واپسی پر انہوں نے سولو نمائش کی تو اس میں فروخت ہونے والی تین تصویروں میں سے دو کے خریدار نوجوان وکیل ذوالفقار علی بھٹو تھے۔

بھٹو کی ملکیت کا حصہ بننے والی ایک تصویر ’برائیڈ‘ کا سراغ لگانے میں سلیمہ ہاشمی کامیاب ٹھہریں جو کہ 70 کلفٹن کراچی میں موجود تھی۔ نصرت بھٹو کا خیال تھا کہ دوسری تصویر غالباً لاڑکانہ والے گھر میں تھی۔

سلیمہ ہاشمی کے فنکارانہ تجسس نے انہیں یہ معلوم کرنے پر اکسایا کہ ’برائیڈ‘ کہاں اور کس حال میں ہے۔ ہماری صحافیانہ چیٹک نے ہمیں نوجوان وکیل بھٹو کے ایوب خان کی کابینہ میں وزیر بننے کے بعد، شاکر علی کے فن پاروں کی لاہور میں نمائش کے افتتاح کے موقع پر کی گئی تقریر کا حوالہ ڈھونڈنے کی سعی پر آمادہ کیا۔

یہ تقریر 1960 میں حنیف رامے کی زیر ادارت ‘نصرت’ کے ایک پرچے میں نظر سے گزری تھی۔ تلاش بسیار کے بعد نہ صرف وہ پرچہ بلکہ ‘لیل و نہار’ کا وہ شمارہ بھی ذاتی کتب خانے سے مل گیا جس میں اس نمائش کو رپورٹ کیا گیا تھا۔

نصرت میں ’شاکر علی کی نئی تصویریں‘ کے عنوان سے تحریر میں ذوالفقار علی بھٹو کا بیان کچھ یوں نقل ہوا ہے:

’اب ماڈرن آرٹ ہمارے ملک میں اجنبی نہیں رہا۔ یہ ہماری ثقافتی اور معاشرتی زندگی کا ایک حصہ بن چکا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ماڈرن آرٹ ایک متنازع فیہ مسئلہ بن گیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس آرٹ نے آرٹ کی روایات میں تبدیلی پیدا کی ہے اور اس میں نئی قدروں کو متعارف کروایا ہے۔ ماڈرن آرٹ داخلی تاثرات کی نقشہ کشی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کے تاثرات کے متعلق کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا جاسکتا اور اس طرح اس کے محاسن کے بارے میں اتفاق رائے مشکل ہے۔ مسٹر شاکر علی پاکستان میں ماڈرن آرٹ کے اہم پیش رو ہیں۔ ان کی ایک تصویر جس کا نام ’دلہن‘ ہے میرے ڈرائنگ روم میں بھی آویزاں ہے جب کبھی میرے کسی ملاقاتی کی اس پر نظر پڑ جاتی ہے اور وہ مجھ سے اس کی وضاحت چاہتا ہے تو ہر مرتبہ کہنے کے لیے مجھے کوئی نئی بات سوچنی پڑتی ہے۔‘

ہفت روزہ ’لیل و نہار‘ میں شاکر علی کی تصویروں کے نمونے بھی شائع ہوئے اور نمائش کی رپورٹ کا انٹرو تو آپ کو اس وقت کے ماحول کا حصہ بنا دیتا ہے:

’دو مئی کی شام گرما کے اس جسم جلا دینے والے مہینے کی عام شاموں سے یوں قطعاً مختلف تھی کہ اس سمے الحمرا کے کھلے سبز صحنوں میں در آنے والی خنک ہوائیں موسم بہار کی یاد تازہ کررہی تھیں۔ اس سانولی سلونی شام کو یہاں ملک کے ایک معروف مصور شاکر علی کی تصویروں کی نمائش منعقد ہونے والی تھی اور الحمرا کے خوش وضع مہمان اس لمحے کا انتظار کررہے تھے جب انہیں رنگوں کی اس چمکتی دنیا کی چھب دیکھنی تھی۔ ان باذوق خواتین و حضرات میں مرکز کے وزیر جناب ذوالفقار علی بھٹو بھی اپنے معصوم چہرے پر تمکنت بھری مخصوص متانت لیے ہوئے تشریف فرما تھے۔ آپ کی آمد کا مقصد شاکر علی کی 17 تصاویر پر مشتمل نمائش کا افتتاح کرنا تھا۔‘

نوجوان وکیل ذوالفقار علی بھٹو نے وزیر بن کر بھی شاکر علی سے ناتے کو برقرار رکھا اور پھر ان سے دوستی وزیراعظم بن کر بھی نبھائی۔

کشور ناہید نے اپنی کتاب ’شناسائیاں، رسوائیاں‘ میں بتایا ہے:

’شاکر علی کے مداحوں میں ذوالفقار علی بھٹو بھی تھے۔ جب وہ لاہور آتے تو شاکر علی کو چائے پینے کے لیے بلواتے۔ اس دن شاکر علی ہم سب سے بات بھی نہیں کرتے تھے۔ شیخی میں کہتے: بس آج ہم بھٹو صاحب سے بات کریں گے۔‘

کمال احمد رضوی نے شاکر علی کے خاکے میں لکھا ہے:

’بھٹو صاحب نے اقتدار سنبھال لیا تھا۔ شاکر صاحب ناشتے کی میز پر اخباروں کی سرخیاں پڑھ کر اپنی تمام تر معصومیت کے ساتھ بھٹو کو داد دے رہے تھے۔‘

شاکر علی کے بارے میں حیدر علی جان اور زین نقوی کے گرافک ناول ’سپیرو ایٹ ہارٹ‘ میں بھی بھٹو اور شاکر علی کے تعلق کا حوالہ آیا ہے۔

شاکر علی نے لاہور میں اپنا گھر بڑے چاؤ سے بنوایا تھا، یہ ان کے تخلیقی ذہن کا آئینہ دار تھا جس کی تعمیر کے لیے انہوں نے بڑا جوکھم اٹھایا تھا لیکن افسوس فنِ تعمیر کے اس نادر نمونے میں انہیں زیادہ عرصہ رہنا نصیب نہیں ہوا۔ ان کا انتقال ہوا تو ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم اور معروف مصور حنیف رامے وزیراعلیٰ پنجاب تھے۔ مرکز میں کلچر کی وزارت عبدالحفیظ پیرزادہ کے پاس تھی۔ اس سے پہلے کہ شاکر علی کا گھر خاندانی تنازعات کی نذر ہوتا، ان کے قدر دانوں کی تحریک پر حکومت نے اس گھر کو شاکر علی میوزیم بنانے کا اعلان کر دیا اور بھٹو دور ہی میں پاکستان میں کسی مصور کے نام پر بننے والے اس پہلے سرکاری میوزیم کا افتتاح ہوگیا جو 50 برس سے شاکر علی کی تصویروں اور ان سے وابستہ دوسری چیزوں کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ ثقافتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا ذریعہ بھی ہے۔

اس گھر کی تعمیر کے لیے شاکر علی کی سرگرمیوں کی ایک جھلک کشور ناہید کے اس بیان میں دیکھی جاسکتی ہے:

’شاکر علی کا گھر بنانے کا انداز بھی عجب تھا۔ اینٹوں کے بھٹے پر جا کر جلی ہوئی ٹیڑھی میڑھی اینٹیں نکال کر الگ کرنا۔ پھر بھٹے والے کو کہنا کہ اس طرح کی ہزاروں اینٹیں بنا دو۔ نیّر علی دادا کے ساتھ بیٹھ کر نقشے کو فائنل کرنا۔ میرا خیال ہے لاہور شہر میں اتنی لمبی کھڑکیاں اور جس انداز سے بنی ہیں وہ صرف شاکر علی کے گھر کی ہیں۔ گھر کی اینٹیں ہی نہیں، گھر کے دروازوں اور لائٹوں کا بھی انوکھا اسٹائل نکالا گیا۔

شاکر علی میوزیم بڑے بڑے مراحل سے گزرنے کے باوجود اب بھی قائم ہے۔

مجھے یاد ہے کہ تعمیر کے دوران اتنے اتنے لمبے شیشے کھڑکیوں میں لٹکائے جارہے تھے کہ ایک دن دوپہر کو بہت سخت آندھی آئی، کوئی کھڑکی شاید کھلی رہ گئی یا ہوا کا زور ایسا تھا کہ ایک شیشہ ٹوٹ گیا۔ شاکر نے کہا: یار اب ایک اور پینٹنگ بنانی پڑے گی۔ اب بھی جب کبھی شاکر علی میوزیم میں کوئی چیز خراب ہوتی ہے، مجھے لگتا ہے شاکر پوچھ رہے ہیں: اب ایک اور پینٹنگ کون بنائے گا۔‘

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

محمود الحسن

گزشتہ دو دہائیوں سے مختلف قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں سے وابستہ ہیں۔ کتابوں میں 'شرفِ ہم کلامی 2017'، 'لاہور شہر پُرکمال 2020'، 'گزری ہوئی دنیا سے 2022' اور 'شمس الرحمٰن فاروقی ,جس کی تھی بات بات میں اک بات' شائع ہو چکی ہیں۔

شفیع عقیل کاشف رضا مصوری نامور صحافی وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: شفیع عقیل کاشف رضا نامور صحافی وی نیوز ذوالفقار علی بھٹو سلیمہ ہاشمی شاکر علی کی شاکر علی کے ماڈرن ا رٹ شفیع عقیل تعمیر کے کاشف رضا اور مصور اس کتاب کے ساتھ نے والی کے لیے کے ایک

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • بلاول کل چلاس جبکہ آصفہ بھٹو ہنزہ میں خطاب کریں گی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں فیلڈ مارشل کی خلیج امن کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو