سندھ کی تقسیم یا کراچی علیحدہ کرنے کیخلاف صوبائی اسمبلی میں قرارداد منظور، متحدہ کی مخالفت، جماعت اسلامی، پی ٹی آئی کی حمایت
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
کراچی (نیٹ نیوز) وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے صوبائی اسمبلی میں صوبے کی تقسیم کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا جبکہ ایم کیو ایم پاکستان نے اس کی مخالفت کی۔ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے ارکان نے بھی اس کی حمایت کی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کراچی سندھ کا اٹوٹ اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے اور رہے گا، سندھ کی تقسیم یا کراچی کو علیحدہ صوبہ بنانے کی کوئی بھی کوشش تاریخ، آئین اور جمہوری اقدار کے منافی سمجھی جائے گی۔ ایسی کوئی بھی کوشش قومی یکجہتی اور وفاقی ڈھانچے کیلئے خطرہ ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ جو اس قرارداد کی مخالفت کرے گا اسے سندھ کا مخالف سمجھا جائے گا۔ کہا کہ کچھ جگہوں پر ایسے اجلاس ہوئے جہاں بات ہوئی کہ سندھ کو توڑ دیا جائے اور کراچی کو الگ کر دیا جائے، میں اس کی پرزور مذمت کرتا ہوں۔ پاکستان صوبہ سندھ نے بنایا تھا۔ پاکستان سے محبت کرنے والا ہر شخص اس قرارداد کی تائید کرے گا۔ میری قرارداد میں کسی شخص یا پارٹی کا نام نہیں ہے۔ پاکستان کی قرارداد اسی سندھ اسمبلی نے پاکستان بننے سے پہلے اور بعد میں پاس کی تھی۔ محترمہ کو جب شہید کردیا گیا تھا تو اس وقت بھی صدر زرداری نے پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا تھا۔ مجھے پوری امید ہے کہ اس قرارداد کی حمایت دونوں طرف بیٹھے لوگ کریں گے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سندھ محض انتظامی اکائی نہیں بلکہ دنیا کی قدیم ترین زندہ تہذیبوں میں سے ایک ہے، موہن جو دڑو کی سرزمین، وادی سندھ تہذیب کا گہوارہ ہے۔ سندھ شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست، عبداللہ شاہ غازی اور لعل شہباز قلندر کی دھرتی ہے، اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے کہا ایسا لگ رہا ہے ڈکٹیٹرشپ چل رہی ہے۔ قرارداد میں لکھا ہے سازشیں ہو رہی ہیں، کونسی سازش ہو رہی ہے؟ میں ان کی قرارداد پر کیسے اعتماد کروں؟ انہوںنے 18 سالہ دور اقتدار میں سندھ کو توڑ ڈالا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔