خیبرپختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے بشیر احمد باطش کا شمار ان فنکاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے فن کی خاطر اپنی روح کو زخم لگتے دیکھے۔

ایک وہ وقت تھا جب خطے میں بدامنی کا راج تھا اور طالبان کے خوف سے بشیر نے اپنے ہی ہاتھوں سے تراشے ہوئے وہ مجسمے پاش پاش کر دیے تھے جنہیں انہوں نے برسوں کی محنت سے بنایا تھا۔ وہ لمحہ ایک آرٹسٹ کے لیے اپنے بچے کو دفن کرنے جیسا تھا، لیکن فن کبھی مرتا نہیں، وہ بس شکل بدل لیتا ہے۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ: ’آرٹسٹ کیفے تخلیق، مکالمے اور ثقافت کا نیا مرکز

ایک منفرد فنی سفر

آج بشیر احمد باطش نے کینوس اور رنگوں کا ایک ایسا انوکھا طریقہ اپنایا ہے جو ملک بھر میں اپنی مثال آپ ہے۔ وہ اب برش یا پینسل سے نہیں، بلکہ آگ اور کاویہ سے پینٹنگز بناتے ہیں۔

بشیر بوری کے دھاگوں پر گرم کاویہ اور آگ کی لپٹوں کے ذریعے سائے اور لکیریں ابھارتے ہیں اسے پائرو گرافی بھی کہا جاتا ہے، لیکن بشیر کا انداز اس قدر پختہ ہے کہ وہ دھاگے کی بوری کو جلا کر اس میں سے زندگی کشید کر لیتے ہیں۔

انہوں نے ملک کی اہم ترین سیاسی، سماجی اور ادبی شخصیات کے پورٹریٹ اسی منفرد انداز میں تیار کیے ہیں، جنہیں دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے کہ آگ کی حدت سے اتنی نزاکت کیسے پیدا کی جا سکتی ہے۔

یہ کام وہ کیسے کرتے ہیں؟

بشیر کا کام انتہائی باریک بینی اور مہارت کا متقاضی ہے۔ وہ دھاگے بنی ہوئی بوری کی سطح کو کینوس کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور گرم کاویہ کے ذریعے لکڑی کو مختلف درجات پر جلا کر گہرا اور ہلکا رنگ دیتے ہیں۔ اس میں غلطی کی گنجائش صفر ہوتی ہے کیونکہ ایک بار دھاگا جل جائے تو اسے مٹایا نہیں جا سکتا۔ یہ ان کے صبر اور فن پر مکمل گرفت کا ثبوت ہے۔

لیکن اتنے بڑے فنکار ہونے کے باوجود، بشیر احمد باطش آج بھی کئی خدشات کے حصار میں ہیں۔

ماضی کے تلخ تجربات اور بدامنی کی لہروں نے ان کے ذہن پر گہرے نقش چھوڑے ہیں۔ ایک حساس فنکار ہونے کے ناطے وہ آج بھی معاشرے میں موجود انتہا پسندانہ سوچ سے خائف رہتے ہیں۔

اتنا منفرد کام کرنے کے باوجود بشیر جیسے فنکاروں کو وہ پذیرائی اور حکومتی سپورٹ نہیں ملتی جس کے وہ حقدار ہیں۔

مزید پڑھیں: عالمی مقابلہ جیتنے والے بلوچستان کے سینڈ آرٹسٹ طے شدہ انعامی رقم سے محروم، مڈل مین ہزاروں ڈالر لے اڑا

آرٹ کے ذریعے گزر بسر کرنا آج کے دور میں ایک بڑا چیلنج ہے، خاص کر ایسے علاقے میں جہاں فن کی قدر کرنے والے کم اور مشکلات زیادہ ہوں۔

بشیر احمد باطش کی کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ فنکار کو خاموش تو کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے اندر کی آگ کو بجھایا نہیں جا سکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آرٹ بدامنی ڈی آئی خان طالبان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ڈی آئی خان طالبان وی نیوز کے ذریعے

پڑھیں:

پنجاب میں پہلی بار 8 لاکھ 32ہزار سےزائدکاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری

راؤ دلشاد:پنجاب حکومت کے کسان کارڈ پروگرام کے تحت صوبے میں پہلی بار 8 لاکھ 32 ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری کیے جا چکے ہیں، جس کے ذریعے کسانوں کو زرعی مداخل کی خریداری اور مالی معاونت کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 8 لاکھ 32 ہزار کاشتکار کسان کارڈ کے ذریعے 2 ارب 54 کروڑ روپے سے زائد کے زرعی قرضے استعمال کر چکے ہیں۔ گندم کے سیزن کے دوران کاشتکاروں نے کسان کارڈ کے ذریعے 100 ارب روپے مالیت کی زرعی مداخل خریدیں۔

پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل

حکام کے مطابق 5 لاکھ 38 ہزار کاشتکاروں سے 67 ارب روپے کی رقم قابل وصول تھی، جس میں سے 86 فیصد ریکوری کا ریکارڈ قائم کیا گیا۔ کاشتکاروں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 57 ارب روپے کی اقساط بھی ادا کر دی ہیں۔

خریف سیزن کے لیے کسان کارڈ کے ذریعے کاشتکاروں کو 90 ارب روپے کی سہولت فراہم کی گئی، جبکہ 3 لاکھ کاشتکاروں نے 30 ارب روپے مالیت کی زرعی مداخل اسی پروگرام کے تحت حاصل کیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ کسان کارڈ کے ذریعے پنجاب کے کاشتکاروں کی زندگی میں مثبت تبدیلی آ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کا کاشتکار اب کسی آڑھتی کا مقروض نہیں ہوگا بلکہ باعزت اور خودمختار زندگی گزار سکے گا۔

غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات

مریم نواز  مزیدنے کہا کہ کاشتکاروں کو مالی خودمختاری اور خوشحالی کی راہ پر گامزن دیکھنا ان کا خواب ہے، اور حکومت زرعی شعبے کی ترقی اور کسانوں کی فلاح کے لیے مزید اقدامات جاری رکھے گی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان بمقابلہ ویسٹ انڈیز آج رات اہم مقابلہ، سب کی نظریں میچ پر
  • پنجاب میں پہلی بار 8 لاکھ 32ہزار سےزائدکاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم