پاکستان کا آئین و قانون بھی اڈیالہ جیل میں قید ہوکر رہ گیا‘ سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260222-01-17
پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ پاکستان کا آئین و قانون بھی اڈیالہ جیل میں قید ہوکر رہ گیا ہے۔وزیر اعلیٰ ہاؤس میں پشاور پریس کلب کے صحافیوں کی حلف برداری کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ تمام نو منتخب ممبران کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، پاکستان کے الیکشن کی طرح کلب نے کبھی اپنا الیکشن ملتوی یا مؤخر نہیں کیا۔اْنہوں نے کہا کہ وفاق ہمارا مقروض ہے ، پریس کلب کی گرانٹ 10 کروڑ سے بڑھا کر 15 کروڑ کرتا ہوں، ویلی کا ماسٹر پلان ابھی تیار ہونا ہے، صحافیوں کی انڈومنٹ فنڈز 20 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ کرتا ہوں، پی ٹی آئی ہمیشہ چاہتی ہے کہ صحافت مضبوط ہوں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ نہ صرف صحافت بلکہ جمہوریت کے تمام ادارے مضبوط ہوں، باقی صوبوں میں زبان پھسلنے والوں کی وڈیو چلانے والے صحافیوں کو بھی معاف نہیں کیا جاتا ہے، خیبر پختونخوا 22 سال سے دہشت گردی کے زد میں تھا لیکن صحافیوں نے اپنا کام جاری رکھا۔سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے صحت کے معاملہ پر 5 دن پْرامن احتجاج کیا، ہم اپنے قائد کی صحت پر ہم سیاست نہیں کرنا چاہتے، اگر ہم صحت پر سیاست کرتے تو پھر ہمارا رویہ تبدیل ہوتا، عمران خان کو اپنے ذاتی معالج تک رسائی تک نہیں دی جارہی ہے۔اْن کا کہنا تھا کہ بنیادی حقوق میں قیدی کا علاج واضح ہے، کچھ رہنماؤں نے پاکستان کے آئین و قانون کو جوتے کی نوک پر رکھ دیا ، جس طرح بانی نے بڑے پن کا مظاہرہ کیا تھا، جعلی طریقے سے پلیٹ لیٹس کم کرنے والے کو بانی نے بیرون ملک علاج کی اجازت دی تھی ،3 ہفتوں کے لیے علاج کے لیے جانے والے 3 سال بعد پاکستان آئے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پاکستان کا آئین و قانون بھی اڈیالہ جیل میں قید ہوکر رہ گیا ہے، ہم میں مزید تشویش بڑھ رہی ہے، اب بھی ذاتی معالج تک رسائی نہیں دی گئی تو وہ ہمارے لیے اور ملک کے لیے اچھی بات نہیں ہے۔سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کا میڈیا پنجاب حکومت کا اربوں روپے کا طیارہ خریدنے پر خاموش ہے، غریب عوام کے پیسوں سے طیارہ خریدا جارہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی کہنا تھا کہ پاکستان کا نے کہا
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔