امریکی طیاروں نے ایران کی جانب پوزیشنیں سنبھال لیں
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260222-01-23
واشنگٹن،تہران(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدہ کرنے کے لیے 10 سے 15 روز کی واضح ڈیڈ لائن دے دی۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے مہلت دیے جانے تک مذاکرات نہ کیے تو بڑا فوجی حملہ کیا جائے گا۔صدر ٹرمپ کی ایران کو کی دئی گئی ڈیڈ لائن کے بعد یورپ میں موجود امریکی فضائیہ نے ایران کی جانب اپنی عسکری پوزیشنز سنبھالنا شروع کر دیں۔پرتگال کے ایک جزیرے پر قائم امریکی ایئربیس پر جنگی طیاروں اور معاون فضائی اثاثوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں امریکی طیاروں نے ممکنہ آپریشنز کے لیے پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔دوسری جانب معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ایران پر کسی بھی قسم کے امریکی حملے کے نتائج ناقابلِ پیش گوئی ہو سکتے ہیں اور یہ اقدام پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ایک روز قبل برطانوی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر ایران کی اعلیٰ قیادت کو براہِ راست نشانہ بنانے پر غور کر رہے ہیں جبکہ بعض رپورٹس میں ایران پر محدود حملوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔انھی رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ امریکی فوج کا ہدف صرف عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایرانی حکومت پر دباؤ بڑھا کر نظام کی تبدیلی(رجیم چینج) کی کوشش ہو سکتی ہے۔ایران کی جانب سے تاحال ان خبروں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم ماضی میں ایرانی حکام واضح کر چکے ہیں کہ کسی بھی حملے کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا۔علاوہ ازیںایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے جوہری معاملے کا واحد حل سفارتی مذاکرات اور سفارتی حل تک پہنچنا ہے، لیکن اگر کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے تو ایران اپنے دفاع میں ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے عباس عراقچی کا کہنا تھا دو سے تین روز میں ممکنہ جوہری معاہدے کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیں گے، منظوری ملنے پر یہ دستاویز امریکی خصوصی ایلچی کے حوالے کر دی جائے گی۔ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں جوہری افزودگی روکنے کی پیشکش نہیں کی، نہ ہی امریکا نے ایسا کوئی مطالبہ کیا، دونوں ممالک کے مذاکرات کار تیز رفتار معاہدے پر کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جوہری معاملے کا کوئی فوجی حل نہیں، جوہری معاملے کا واحد حل سفارتی مذاکرات اور سفارتی حل تک پہنچنا ہے، لیکن اگر کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے تو ایران اپنے دفاع میں ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔عباس عراقچی کا کہنا تھا سفارت کاری اور جنگ دونوں کے لیے ہی تیار ہیں، اگر امریکا نے حملہ کیا تو اس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائیگی، امریکی حملہ ناصرف ایران بلکہ پورے خطے اور عالمی برادری کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر اور اراکین کانگریس کو پیغام دیا کہ امریکی حکومتیں ایران کے خلاف تقریباً ہر حربہ آزما چکی ہیں، ایران کے خلاف جنگ، پابندیاں یا اسنیپ بیک، کوئی بھی حربہ کامیاب نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام سے احترام کی زبان میں بات کریں گے تو ہم بھی اسی زبان میں جواب دیں گے، آپ ہم سے طاقت کی زبان میں بات کریں گے تو ہم بھی اسی زبان میں جواب دیں گے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا ایران پر محدود حملے سے متعلق سوچ رہا ہوں۔ادھرایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات کے دوران عالمی طاقتوں کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔مسعود پزشکیان نے سرکاری ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر ہونے والی ایک تقریر میں کہا کہ عالمی طاقتیں ہمیں اپنا سر جھکانے پر مجبور کرنے کے لیے کمر بستہ ہیں لیکن ان تمام مسائل کے باوجود جو وہ ہمیں پیدا کر رہے ہیں، ہم اپنا سر نہیں جھکائیں گے۔ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہو گیا ہے، جو اب تک ایک بار مذاکرات کی ثالثی کرنے والے عمان کے دارالحکومت مسقط میں اور ایک بار جنیوا میں ملک کے قونصل خانے میں منعقد ہو چکے ہیں۔قبل ازیںایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن الثانی سے فون پر بات کی۔ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق اس فون کال کا محور ’تازہ ترین علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت‘ پر غور کرنا تھا۔یہ بھی بتایا گیا کہ اس فون کال میں ایران اور امریکا کے درمیان تازہ ترین مذاکرات کا بھی جائزہ لیا گیا اورعلاقائی تعاون کے فریم ورک کے اندر سفارت کاری کے راستے کو آسان بنانے اور آگے بڑھانے کے لیے مشاورت اور تعاون کو جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ ماہ ایران میں مظاہروں کے دوران 32 ہزار افراد کی ہلاکت کے دعوے پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر سے ’ثبوت‘ کا مطالبہ کر دیا۔عباس عراقچی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک پیغام میں لکھا ہے اپنے عوام کے تئیں مکمل شفافیت کے اپنے عہد کو پورا کرتے ہوئے، ایران کی حکومت نے پہلے ہی حالیہ دہشت گردی کے آپریشن کے تمام 3117 متاثرین کی ایک جامع فہرست شائع کر چکی ہے جس میں تقریباً 200 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ان کا مزید کہنا ہے،اگر کسی کو ہمارے اعداد و شمار درستگی پر شک ہے تو براہ کرم ثبوت کے ساتھ بات کریں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جنوری میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ قلیل عرصے میں 32,000 افراد مارے گئے تھے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کی پھانسی کی معطلی کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام 800 سے زائد افراد کو پھانسی دینے جا رہے تھے۔ وہ ان میں سے کچھ کو کرین سے پھانسی دینے والے تھے، وہ 837 لوگوں کو پھانسی دینے جا رہے تھے، میں نے انھیں پیغام بھیجا کہ اگر آپ ایک شخص کو بھی پھانسی دیں گے تو آپ کو اس ہی وقت نشانہ بنایا جائے گا۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انھیں ایران کے لوگوں سے ہمدردی محسوس ہوتی ہے،وہ جہنم میں رہ رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عباس عراقچی نے ڈونلڈ ٹرمپ نے کرنے کے لیے کا کہنا تھا ایران کے نے ایران ایران کی کہ ایران رہے ہیں کی جانب تھا کہ
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز