Jasarat News:
2026-07-24@02:31:09 GMT

امریکی طیاروں نے ایران کی جانب پوزیشنیں سنبھال لیں

اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260222-01-23
واشنگٹن،تہران(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو معاہدہ کرنے کے لیے 10 سے 15 روز کی واضح ڈیڈ لائن دے دی۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے مہلت دیے جانے تک مذاکرات نہ کیے تو بڑا فوجی حملہ کیا جائے گا۔صدر ٹرمپ کی ایران کو کی دئی گئی ڈیڈ لائن کے بعد یورپ میں موجود امریکی فضائیہ نے ایران کی جانب اپنی عسکری پوزیشنز سنبھالنا شروع کر دیں۔پرتگال کے ایک جزیرے پر قائم امریکی ایئربیس پر جنگی طیاروں اور معاون فضائی اثاثوں کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے جہاں امریکی طیاروں نے ممکنہ آپریشنز کے لیے پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔دوسری جانب معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ایران پر کسی بھی قسم کے امریکی حملے کے نتائج ناقابلِ پیش گوئی ہو سکتے ہیں اور یہ اقدام پورے مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ایک روز قبل برطانوی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی صدر ایران کی اعلیٰ قیادت کو براہِ راست نشانہ بنانے پر غور کر رہے ہیں جبکہ بعض رپورٹس میں ایران پر محدود حملوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔انھی رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ امریکی فوج کا ہدف صرف عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایرانی حکومت پر دباؤ بڑھا کر نظام کی تبدیلی(رجیم چینج) کی کوشش ہو سکتی ہے۔ایران کی جانب سے تاحال ان خبروں پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا تاہم ماضی میں ایرانی حکام واضح کر چکے ہیں کہ کسی بھی حملے کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا۔علاوہ ازیںایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے جوہری معاملے کا واحد حل سفارتی مذاکرات اور سفارتی حل تک پہنچنا ہے، لیکن اگر کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے تو ایران اپنے دفاع میں ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔امریکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے عباس عراقچی کا کہنا تھا دو سے تین روز میں ممکنہ جوہری معاہدے کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیں گے، منظوری ملنے پر یہ دستاویز امریکی خصوصی ایلچی کے حوالے کر دی جائے گی۔ان کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں جوہری افزودگی روکنے کی پیشکش نہیں کی، نہ ہی امریکا نے ایسا کوئی مطالبہ کیا، دونوں ممالک کے مذاکرات کار تیز رفتار معاہدے پر کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جوہری معاملے کا کوئی فوجی حل نہیں، جوہری معاملے کا واحد حل سفارتی مذاکرات اور سفارتی حل تک پہنچنا ہے، لیکن اگر کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے تو ایران اپنے دفاع میں ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔عباس عراقچی کا کہنا تھا سفارت کاری اور جنگ دونوں کے لیے ہی تیار ہیں، اگر امریکا نے حملہ کیا تو اس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائیگی، امریکی حملہ ناصرف ایران بلکہ پورے خطے اور عالمی برادری کے لیے تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر اور اراکین کانگریس کو پیغام دیا کہ امریکی حکومتیں ایران کے خلاف تقریباً ہر حربہ آزما چکی ہیں، ایران کے خلاف جنگ، پابندیاں یا اسنیپ بیک، کوئی بھی حربہ کامیاب نہیں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ ایرانی عوام سے احترام کی زبان میں بات کریں گے تو ہم بھی اسی زبان میں جواب دیں گے، آپ ہم سے طاقت کی زبان میں بات کریں گے تو ہم بھی اسی زبان میں جواب دیں گے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا ایران پر محدود حملے سے متعلق سوچ رہا ہوں۔ادھرایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات کے دوران عالمی طاقتوں کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔مسعود پزشکیان نے سرکاری ٹیلی ویژن پر براہ راست نشر ہونے والی ایک تقریر میں کہا کہ عالمی طاقتیں ہمیں اپنا سر جھکانے پر مجبور کرنے کے لیے کمر بستہ ہیں لیکن ان تمام مسائل کے باوجود جو وہ ہمیں پیدا کر رہے ہیں، ہم اپنا سر نہیں جھکائیں گے۔ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہو گیا ہے، جو اب تک ایک بار مذاکرات کی ثالثی کرنے والے عمان کے دارالحکومت مسقط میں اور ایک بار جنیوا میں ملک کے قونصل خانے میں منعقد ہو چکے ہیں۔قبل ازیںایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن الثانی سے فون پر بات کی۔ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق اس فون کال کا محور ’تازہ ترین علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت‘ پر غور کرنا تھا۔یہ بھی بتایا گیا کہ اس فون کال میں ایران اور امریکا کے درمیان تازہ ترین مذاکرات کا بھی جائزہ لیا گیا اورعلاقائی تعاون کے فریم ورک کے اندر سفارت کاری کے راستے کو آسان بنانے اور آگے بڑھانے کے لیے مشاورت اور تعاون کو جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گذشتہ ماہ ایران میں مظاہروں کے دوران 32 ہزار افراد کی ہلاکت کے دعوے پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر سے ’ثبوت‘ کا مطالبہ کر دیا۔عباس عراقچی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک پیغام میں لکھا ہے اپنے عوام کے تئیں مکمل شفافیت کے اپنے عہد کو پورا کرتے ہوئے، ایران کی حکومت نے پہلے ہی حالیہ دہشت گردی کے آپریشن کے تمام 3117 متاثرین کی ایک جامع فہرست شائع کر چکی ہے جس میں تقریباً 200 سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ان کا مزید کہنا ہے،اگر کسی کو ہمارے اعداد و شمار درستگی پر شک ہے تو براہ کرم ثبوت کے ساتھ بات کریں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جنوری میں ہونے والے مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کے متعلق تبصرہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ قلیل عرصے میں 32,000 افراد مارے گئے تھے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے مظاہرین کی پھانسی کی معطلی کا حوالہ دیتے ہوئے ایک بار پھر دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام 800 سے زائد افراد کو پھانسی دینے جا رہے تھے۔ وہ ان میں سے کچھ کو کرین سے پھانسی دینے والے تھے، وہ 837 لوگوں کو پھانسی دینے جا رہے تھے، میں نے انھیں پیغام بھیجا کہ اگر آپ ایک شخص کو بھی پھانسی دیں گے تو آپ کو اس ہی وقت نشانہ بنایا جائے گا۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انھیں ایران کے لوگوں سے ہمدردی محسوس ہوتی ہے،وہ جہنم میں رہ رہے ہیں۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عباس عراقچی نے ڈونلڈ ٹرمپ نے کرنے کے لیے کا کہنا تھا ایران کے نے ایران ایران کی کہ ایران رہے ہیں کی جانب تھا کہ

پڑھیں:

فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان

 اسلان درانی : فیصل آباد میں حکومت اور پٹرول پمپ مالکان کے درمیان مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے، جس کے بعد پٹرول پمپ مالکان نے ہڑتال کا اعلان کر دیا, ہڑتال کے باعث شہر میں متعدد پٹرول پمپس پر پٹرول کی فراہمی معطل ہو گئی، جس سے شہریوں کو ایندھن کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) اور گو (GO) کے چند پمپس کے علاوہ بیشتر مقامات پر پٹرول دستیاب نہیں، جبکہ کھلے پمپس پر بھی گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول تک رسائی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

شہریوں نے شکایت کی کہ پٹرول پہلے ہی مہنگا ہو چکا ہے اور اب اس کی عدم دستیابی نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ پٹرول پمپ مالکان سپلائی میں تعطل کو جواز بنا رہے ہیں، جس سے عام صارفین متاثر ہو رہے ہیں۔

شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کیے جائیں، پٹرول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور حکومت و پٹرول پمپ مالکان کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ معمولاتِ زندگی متاثر نہ ہوں۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو وارننگ، کویت میں امریکی الیکٹرانک وارفیئر کا یونٹ تباہ
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی