اقوام متحدہ کا امریکا ایران کشیدگی پر تشویش کا اظہار، سفارتکاری کے ذریعے تنازعات حل کرنے کی اپیل
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اقوامِ متحدہ نے امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تنازعات کو سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی اپیل کی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل Antonio Guterres کے ترجمان نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں فوجی نقل و حرکت، جنگی مشقوں اور بحری موجودگی میں اضافے پر شدید تشویش ہے۔
گذشتہ روز ایران نے اقوامِ متحدہ کو خط بھیج کر خبردار کیا تھا کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں وہ اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا پر ہوگی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں جنگ کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، امریکا کا دوسرا بحری بیڑا، جس میں لڑاکا طیارے شامل ہیں، Gerald Ford Carrier Strike Group بحیرہ روم میں داخل ہو گیا، جبکہ پرتگال میں امریکی فضائی اڈوں پر لڑاکا طیارے تعینات کیے گئے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق، ایران پر ممکنہ حملے کی صورت میں امریکا ایرانی رہنماؤں کو براہِ راست نشانہ بنائے گا اور امریکی فوج حکومت کو ختم کرنے کی کوشش کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔