data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260222-02-14
کراچی( اسٹاف رپورٹر )اسپیشل سیکیورٹی یونٹ (SSU) نے انسانیت کی خدمت میں ایک قابلِ تحسین قدم اٹھاتے ہوئے ایس ایس یو ہیڈکوارٹرز میں تھیلیسیمیا میں مبتلا بچوں کے لیے ایک بلڈ ڈونیشن کیمپ کا انعقاد کیا۔ یہ کیمپ المصطفیٰ ہسپتال کے زیرِ اہتمام اور ڈی آئی جی سیکیورٹی ڈاکٹر مقصود احمد کی خصوصی ہدایت پر منعقد کیا گیا۔اس کیمپ کا مقصد کمزور اور مستحق طبقات کی معاونت کے تسلسل کو جاری رکھنا تھا۔ کیمپ میںایس ایس یو کے افسران اور جوانوں کی بڑی تعداد نے رضاکارانہ طور پرخون کا عطیہ دیا، اور اس نیک مقصد میں اپنے حصے کا کردار ادا کیا۔ تھیلیسیمیا سے لڑنے والے بچوں کے لیے خون کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے اس اقدام نے ایس ایس یو اہلکاروں کے انسانی جذبے، سماجی ذمہ داری اور پیشہ ورانہ فرائض سے بڑھ کر عزم کی عکاسی کی۔کیمپ کے دوران المصطفیٰ ہسپتال کی طبی ٹیموں نے اسکریننگ اور خون جمع کرنے کے مراحل میں مکمل سہولت فراہم کی، جس سے پورا عمل نہایت ہموار اور مؤثر طریقے سے مکمل ہوا۔ ایس ایس یو کے افسران اور جوانوں نے اس عمل میں بھرپور ردِعمل کا مظاہرہ کیا، جو اس بات کا غماز تھا کہ ایس ایس یو نہ صرف قانون نافذ کرنے والی ایجنسی ہے، بلکہ یہ ادارہ سماجی ذمہ داریوں کی تکمیل میں بھی پیش پیش ہے۔بلڈ ڈونیشن کیمپ کا کامیاب انعقاد ایس ایس یو کے انتظامی عملے کی انتھک محنت کا نتیجہ تھا۔

اسٹاف رپورٹر سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ایس ایس یو کیمپ کا

پڑھیں:

ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر

ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔

پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟