data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(رپورٹ:منیرعقیل انصاری )گلستان جوہرمنور چورنگی انڈر پاس (زیریں گزر گاہ) کا تعمیراتی کام سست روی کا شکار ہے۔ ایک سال گزرنے کے باوجود صرف40 فیصد مکمل ہو سکا ہے ،جبکہ 60فیصد کام اب بھی باقی ہے۔ تعمیراتی کاموں میں سست روی کے باعث رمضان المبارک میں شہریوں کو ٹریفک جام، گرد و غبار اور راستوں کی بندش جیسی شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ مین سڑکوں کی کھدائی اور تعمیرات کے باعث روزے داروں کے لیے سفر کرنا مشکل ہوگیا ہے۔گرد و غبار اور شور، تعمیراتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی دھول اور شور روزے داروں کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔راستوں کی بندش ،متبادل راستے نہ ہونے یا طویل ہونے کی وجہ سے وقت کا ضیاع ہوتا ہے۔گلستانِ جوہر منور چورنگی پر صرف 490 میٹر کا انڈر پاس (زیریں گزر گاہ)کی لاگت ایک ارب اڑتالیس کروڑ لگایا گیا ہے ، سوال یہ ہے اتنا چھوٹا منصوبہ، اتنا وقت کیوں لگ رہا ہے؟گلستانِ جوہر کی مین اور مصروف ترین شاہراہ منور چورنگی پر بننے والا انڈر پاس پچھلے ایک سال سے شہریوں کیلئے شدید اذیت بنا ہوا ہے۔تقریباً490میٹر طویل یہ منصوبہ جو چند مہینوں میں مکمل ہو جانا چاہیے تھا، ایک سال گزرنے کے باوجود صرف40 فیصد مکمل ہو سکا ہے، جبکہ 60فیصد کام اب بھی باقی ہے۔عارضی طور پر بنائی گئی سروس روڈ پر روزانہ کی بنیاد پر گھنٹوں ٹریفک جام،ایمبولینس اور اسکول وینز پھنس جاتی ہیں، متبادل راستے کی گنجائش کم ہونے کی وجہ سے شہریوں نے خود سے جو گاڑی کاٹ راستے بنا لیا ہیں جو کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہیںیہ سڑک صرف ایک روڈ نہیں یہ گلستان جوہر کی لائف لائن ہے۔یہی سڑک کنیکٹ کرتی ہے جس میں کامران چورنگی، جوہر موڑ، جوہر چورنگی، پرفیوم چوک، پہلوان گوٹھ، یونیورسٹی روڈ، صفورا چورنگی شامل ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تقریبا 15سے20 لاکھ آبادی کا روزانہ کا گزر اسی روٹ سے ہوتا ہے، مگر موقع پر نہ کام کی رفتار نظر آتی ہے نہ ہی انتظامیہ۔ شہری سوال کررہے ہیں کہ اتنا اہم منصوبہ سست روی کا شکار کیوں ہے؟کون ذمہ دار ہے اس عوامی اذیت کا؟کام رکا ہوا کیوں ہے؟اس حوالے سے گلستان جوہر کے رہائشیوں نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ گلستان جوہر منور چورنگی پر انڈر پاس (زیریں گزر گاہ) غیرضروری تعمیرکیا جارہا ہے یہ نعمت کے بجائے زحمت بن گیا ہے ، ٹریفک جام اور حادثات روز کا معمول بنے ہوئے ہیں۔ شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ اسی ایک سال کے دوران پنجاب میں اب تک تین انڈر پاسز بن چکے ہیں۔ سندھ حکومت کی رفتار کو دیکھ کر تو یہی شک گزرتا ہے کہ پنجاب کے انڈر پاسز جنوں سے بنوائے جا رہے ہیں۔اب تو حال یہ ہے کہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کوئی بھی ترقیاتی کام کرنے اعلان کرتے ہیں تو عوام بجائے خوش ہونے کے شدید ڈپریشن میں چلی جاتی ہے کیونکہ 18 سالہ دور حکومت میں اب تک کوئی ایک معیاری کام پیش نہ کیا جاسکا ہے اور دوسری جانب ہر ترقیاتی کام کی رفتار کچھوؤں کی رفتار سے بھی زیادہ سست ہوتی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ نہ ہی جوہر چورنگی پہ انڈر پاس اور پل بنانے کی ضرورت تھی اور نہ ہی منور چورنگی پہ۔ اس پل اور انڈر پاس نے جس اذیت سے دو چار کیا ہوا ہے نا اس کا اندازہ صرف وہی لوگ لگا سکتے ہیں جن کا وہاں سے گزر ہوتا رہتا ہے۔ اچھا خاصا چلتا پھرتا ٹریفک تھا جس کو جہاں جانا ہوتا بغیر کسی مشقت کے پہنچ جاتا تھا۔ اصل مقصد پل اور انڈر پاس بنانے کا عوام کو ریلیف دینا نہیں ہے بلکہ اپنے نمبر بڑھانا ہے، صاحب اختیار لوگوں کو عوام کے مفاد و نقصان میں تمیز ہی نہیں کرنی آتی، اور ان کے فیصلوں کی سزا ہم عوام بھگت رہے ہیں۔ پنجاب حکومت کی کارکردگی 1 سال میں تین انڈر پاسز مکمل ہوجاتے ہیںسندھ حکومت کی کارکردگی صفر انڈر پاس ہے۔کراچی میں یو نیورسٹی روڈ کے ریڈ لائن اور دو انڈر پاسز منور چورنگی اور کریم اباد انڈر پاس کے نام پر تین جگہوں کو بری طرح کھود کر رکھ دیا ہے جس سے اہل علاقہ اور کراچی کے مکین بہت زیادہ ذہنی اذیت کا شکار ہیں تینوں جگہوں پر کام سست روی کا شکار ہے جیسے کام ہو ہی نہیں رہا ہے ۔ ادارہ ترقیات کراچی (کے ڈی اے) کو چاہیے کہ رمضان المبارک کے پیش نظر تعمیراتی کاموں کو تیز کرے تاکہ شہریوں کی مشکلات کم ہو سکیں۔واضح رہے کہ منور چورنگی انڈر پاس کا با ضابطہ تعمیراتی کام 6 فروری 2025 کو شروع ہوا تھا جو کہ تاحال جاری ہے اس انڈر پاس کی سالگرہ مکمل ہوگئی ہے۔لیکن انڈر پاس مکمل نہیں ہو سکا ہے اس انڈر پاس کی لاگت کا تخمینہ تقریباً 1 ارب 48 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ انڈر پاس کی لمبائی تقریباً 490 میٹر ہے۔سندھ حکومت نے اب تک منور چورنگی انڈر پاس کی سرکاری طور پر تکمیل کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی ہے۔ اس حوالے سے کے ڈی اے ذارئع کا کہنا ہے کہ منور چورنگی انڈر پاس منصوبے پر ایک ارب 48 کروڑ روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور اسے دو سال میں مکمل کیا جائے گا۔ یہ انڈر پاس پروفیسر غفور روڈ پر تعمیرکیا جا رہا ہے اسے تین حصوں میں مکمل کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ابتدائی طور پر 4سو میٹر کا ٹکڑا اور سگنل کے بعدکا حصہ تعمیر کر لیا گیا ہے،اور آخر میں منور چورنگی کے حصے پر انڈر پاس کی کھدائی کے ساتھ تعمیراتی کام جاری ہے۔

منیر عقیل انصاری سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: منور چورنگی انڈر پاس تعمیراتی کام گلستان جوہر انڈر پاس کی روی کا شکار انڈر پاسز کی رفتار ایک سال مکمل ہو سست روی گیا ہے رہا ہے

پڑھیں:

طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم

ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ  کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • پاکستان میں سریے کی قیمت آج 23 جولائی 2026، تازہ ریٹس جاری