گلستان جوہر منور چورنگی انڈرپاس کا تعمیراتی کام سست رروی کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(رپورٹ:منیرعقیل انصاری )گلستان جوہرمنور چورنگی انڈر پاس (زیریں گزر گاہ) کا تعمیراتی کام سست روی کا شکار ہے۔ ایک سال گزرنے کے باوجود صرف40 فیصد مکمل ہو سکا ہے ،جبکہ 60فیصد کام اب بھی باقی ہے۔ تعمیراتی کاموں میں سست روی کے باعث رمضان المبارک میں شہریوں کو ٹریفک جام، گرد و غبار اور راستوں کی بندش جیسی شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ مین سڑکوں کی کھدائی اور تعمیرات کے باعث روزے داروں کے لیے سفر کرنا مشکل ہوگیا ہے۔گرد و غبار اور شور، تعمیراتی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی دھول اور شور روزے داروں کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔راستوں کی بندش ،متبادل راستے نہ ہونے یا طویل ہونے کی وجہ سے وقت کا ضیاع ہوتا ہے۔گلستانِ جوہر منور چورنگی پر صرف 490 میٹر کا انڈر پاس (زیریں گزر گاہ)کی لاگت ایک ارب اڑتالیس کروڑ لگایا گیا ہے ، سوال یہ ہے اتنا چھوٹا منصوبہ، اتنا وقت کیوں لگ رہا ہے؟گلستانِ جوہر کی مین اور مصروف ترین شاہراہ منور چورنگی پر بننے والا انڈر پاس پچھلے ایک سال سے شہریوں کیلئے شدید اذیت بنا ہوا ہے۔تقریباً490میٹر طویل یہ منصوبہ جو چند مہینوں میں مکمل ہو جانا چاہیے تھا، ایک سال گزرنے کے باوجود صرف40 فیصد مکمل ہو سکا ہے، جبکہ 60فیصد کام اب بھی باقی ہے۔عارضی طور پر بنائی گئی سروس روڈ پر روزانہ کی بنیاد پر گھنٹوں ٹریفک جام،ایمبولینس اور اسکول وینز پھنس جاتی ہیں، متبادل راستے کی گنجائش کم ہونے کی وجہ سے شہریوں نے خود سے جو گاڑی کاٹ راستے بنا لیا ہیں جو کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہیںیہ سڑک صرف ایک روڈ نہیں یہ گلستان جوہر کی لائف لائن ہے۔یہی سڑک کنیکٹ کرتی ہے جس میں کامران چورنگی، جوہر موڑ، جوہر چورنگی، پرفیوم چوک، پہلوان گوٹھ، یونیورسٹی روڈ، صفورا چورنگی شامل ہے۔ ایک اندازے کے مطابق تقریبا 15سے20 لاکھ آبادی کا روزانہ کا گزر اسی روٹ سے ہوتا ہے، مگر موقع پر نہ کام کی رفتار نظر آتی ہے نہ ہی انتظامیہ۔ شہری سوال کررہے ہیں کہ اتنا اہم منصوبہ سست روی کا شکار کیوں ہے؟کون ذمہ دار ہے اس عوامی اذیت کا؟کام رکا ہوا کیوں ہے؟اس حوالے سے گلستان جوہر کے رہائشیوں نے جسارت سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ گلستان جوہر منور چورنگی پر انڈر پاس (زیریں گزر گاہ) غیرضروری تعمیرکیا جارہا ہے یہ نعمت کے بجائے زحمت بن گیا ہے ، ٹریفک جام اور حادثات روز کا معمول بنے ہوئے ہیں۔ شہریوں کا مزید کہنا تھا کہ اسی ایک سال کے دوران پنجاب میں اب تک تین انڈر پاسز بن چکے ہیں۔ سندھ حکومت کی رفتار کو دیکھ کر تو یہی شک گزرتا ہے کہ پنجاب کے انڈر پاسز جنوں سے بنوائے جا رہے ہیں۔اب تو حال یہ ہے کہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کوئی بھی ترقیاتی کام کرنے اعلان کرتے ہیں تو عوام بجائے خوش ہونے کے شدید ڈپریشن میں چلی جاتی ہے کیونکہ 18 سالہ دور حکومت میں اب تک کوئی ایک معیاری کام پیش نہ کیا جاسکا ہے اور دوسری جانب ہر ترقیاتی کام کی رفتار کچھوؤں کی رفتار سے بھی زیادہ سست ہوتی ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ نہ ہی جوہر چورنگی پہ انڈر پاس اور پل بنانے کی ضرورت تھی اور نہ ہی منور چورنگی پہ۔ اس پل اور انڈر پاس نے جس اذیت سے دو چار کیا ہوا ہے نا اس کا اندازہ صرف وہی لوگ لگا سکتے ہیں جن کا وہاں سے گزر ہوتا رہتا ہے۔ اچھا خاصا چلتا پھرتا ٹریفک تھا جس کو جہاں جانا ہوتا بغیر کسی مشقت کے پہنچ جاتا تھا۔ اصل مقصد پل اور انڈر پاس بنانے کا عوام کو ریلیف دینا نہیں ہے بلکہ اپنے نمبر بڑھانا ہے، صاحب اختیار لوگوں کو عوام کے مفاد و نقصان میں تمیز ہی نہیں کرنی آتی، اور ان کے فیصلوں کی سزا ہم عوام بھگت رہے ہیں۔ پنجاب حکومت کی کارکردگی 1 سال میں تین انڈر پاسز مکمل ہوجاتے ہیںسندھ حکومت کی کارکردگی صفر انڈر پاس ہے۔کراچی میں یو نیورسٹی روڈ کے ریڈ لائن اور دو انڈر پاسز منور چورنگی اور کریم اباد انڈر پاس کے نام پر تین جگہوں کو بری طرح کھود کر رکھ دیا ہے جس سے اہل علاقہ اور کراچی کے مکین بہت زیادہ ذہنی اذیت کا شکار ہیں تینوں جگہوں پر کام سست روی کا شکار ہے جیسے کام ہو ہی نہیں رہا ہے ۔ ادارہ ترقیات کراچی (کے ڈی اے) کو چاہیے کہ رمضان المبارک کے پیش نظر تعمیراتی کاموں کو تیز کرے تاکہ شہریوں کی مشکلات کم ہو سکیں۔واضح رہے کہ منور چورنگی انڈر پاس کا با ضابطہ تعمیراتی کام 6 فروری 2025 کو شروع ہوا تھا جو کہ تاحال جاری ہے اس انڈر پاس کی سالگرہ مکمل ہوگئی ہے۔لیکن انڈر پاس مکمل نہیں ہو سکا ہے اس انڈر پاس کی لاگت کا تخمینہ تقریباً 1 ارب 48 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔ انڈر پاس کی لمبائی تقریباً 490 میٹر ہے۔سندھ حکومت نے اب تک منور چورنگی انڈر پاس کی سرکاری طور پر تکمیل کی کوئی حتمی تاریخ نہیں دی ہے۔ اس حوالے سے کے ڈی اے ذارئع کا کہنا ہے کہ منور چورنگی انڈر پاس منصوبے پر ایک ارب 48 کروڑ روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے اور اسے دو سال میں مکمل کیا جائے گا۔ یہ انڈر پاس پروفیسر غفور روڈ پر تعمیرکیا جا رہا ہے اسے تین حصوں میں مکمل کیا جائے گا تاکہ شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ابتدائی طور پر 4سو میٹر کا ٹکڑا اور سگنل کے بعدکا حصہ تعمیر کر لیا گیا ہے،اور آخر میں منور چورنگی کے حصے پر انڈر پاس کی کھدائی کے ساتھ تعمیراتی کام جاری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: منور چورنگی انڈر پاس تعمیراتی کام گلستان جوہر انڈر پاس کی روی کا شکار انڈر پاسز کی رفتار ایک سال مکمل ہو سست روی گیا ہے رہا ہے
پڑھیں:
خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔(جاری ہے)
انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔