data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260222-03-3
آج کی تراویح میں چھٹے پارے کے آغاز سے ساتویں پارے کے ربع تک تلاوت کی جائے گی جو سورہ النساء کے آخری حصے اور سورہ المائدہ مکمل پر مشتمل ہے۔
سورہ النساء کے اس آخری ربع میں اہل ایمان کو ظلم و جبر کے ماحول میں صبر و استقامت اور اپنی اخلاقی برتری قائم رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس حصے کا اکثر کلام اہل کتاب سے متعلق ہے۔ جس میں ان کی ریشہ دوانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ انہوں نے آپؐ سے قبل سیدنا موسیٰؑ کو بھی اسی طرح تکالیف سے دوچار کیا ہے۔ بنی اسرائیل کی جانب سے سیدنا عیسیٰؑ کے قتل کی کوشش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں صحیح سلامت آسمان پر اٹھالیا، لیکن وہ اس بات پر بھی فخر کرتے ہیں کہ ہم نے عیسیٰؑ کو قتل کردیا۔ یہاں پر عیسائیوں کے عقیدۂ تثلیث (تین خدا) کی بھی نفی کی گئی کہ الٰہ صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
سورہ المائدہ مدنی سورت ہے جو صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی۔ اس سورت کے زیادہ تر مضامین احکام اور اسلامی قوانین پر مشتمل ہیں۔ اس سورت میں حج، وضو، غسل، تیمم، کھانے پینے کی اشیاء میں حلت و حرمت، اہل کتاب کے ساتھ کھانا اور ان کی عورتوں سے نکاح کی اجازت، شراب و جوئے کی حتمی حرمت، قسم توڑنے کا کفارہ اور گواہی کے قانون کی تفصیلات بھی اس سورت کے مضامین میں شامل ہیں۔ یہودیوں اور عیسائیوں کو ان کے غلط رویے پر متنبہ کیا گیا کہ وہ راہ راست پر آجائیں۔
سورت کے پہلے رکوع میں اہل ایمان کو اللہ کی قائم کردہ حدود و قیود کی پابندی اور شعائر اللہ کی بے حرمتی سے منع کیا گیا۔ مردار، خون ، خنزیر، اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کے نام پر ذبیحے کو حرام قرار دینے کے ساتھ ساتھ حلت و حرمت کے دیگر مسائل بیان کیے گئے۔ اہل کتاب کی خواتین کے ساتھ نکاح کو جائز جبکہ مسلم خاتون کے اہل کتاب مرد کے ساتھ نکاح کو ناجائز قرار دیا گیا۔ دوسرے رکوع میں وضو کا طریقہ، غسل جنابت کا حکم، نواقض وضو اور پانی پر دسترس نہ ہونے کی صورت میں تیمم کی یاد دہانی کروائی ہے جس کا حکم سورت النساء میں ذکر چکا ہے۔ تیسرے رکوع میں یہود و نصاریٰ کی بد عہدیوں اور ان کی وجہ سے معاشرے میں پیدا ہونے والے بگاڑ کو بیان کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے ان کے راہ راست پر چلنے کے وعدے کے بدلے میں اپنی نصرت کا یقین دلایا تھا لیکن جب انہوں نے راہ راست چھوڑ دی تو ان پر اللہ کی پھٹکار برسی۔ چوتھے رکوع میں ہے کہ بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات کے بعد فلسطین میں داخلے کے لیے عمالقہ قوم سے جہاد کا حکم دیا گیا تو انہوں نے انکار کردیا، سزا کے طور پر وہ چالیس سال تک اسی وادی میں بھٹکتے رہے۔ جب یہ نسل مر کھپ گئی تو نئی نسل نے جہاد کیا اور فلسطین فتح کیا۔
پانچویں رکوع میں پہلے قتل انسانی کا بیان ہے کہ سیدنا آدمؑ کے بیٹوں میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کردیا۔ اگلی آیت میں ایک انسان کو بلا سبب شرعی قتل کرنا پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا گیا۔ اسلامی ریاست میں فتنہ و فساد، قتل و غارت گری اور ڈاکا زنی کی سزا کا تعین کیا گیا۔ چھٹے رکوع میں چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا بطور حد قرار دیا گیا۔ ساتویں رکوع میں مزید حدود شرعی کا ذکر ہے کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک ، کان کے بدلے کان ، دانت کے بدلے دانت ، اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ لیا جائے۔ آٹھویں رکوع میں یہود و نصاریٰ سے دوستی کو منع کیا گیا ہے کہ وہ کبھی بھی تمہارے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ نویں رکوع میں یہودیوں کی جانب سے نماز، اذان اور دیگر شعائر اسلام کا مذاق اُڑانے کی مذمت کی گئی ہے کہ انہوں نے خود تو اپنے دین کا حلیہ بگاڑ دیا ہے اب شعائر اسلامی کا مذاق اُڑاتے ہیں۔
دسویں رکوع میں آپؐ کو حق تبلیغ ادا کرنے کا حکم دیا گیا کہ جو کچھ بھی آپؐ کی طرف وحی کی جاتی ہے وہ لوگوں تک پہنچادیں۔ گیارہوں رکوع میں یہود و نصاریٰ کے طرز عمل اور رویے کو بیان کیاگیا ہے۔ بارہویں رکوع میں قسم توڑنے کا کفارہ ( دس مسکینوں کا کھانا کھلانا، انہیں کپڑے فراہم کرنا، ایک غلام آزاد کرنا، جو ان کی استظاعت نہ رکھے وہ تین دن روزے رکھے)، اور شراب اور جوئے کی حتمی حرمت بیان کی گئی ہے۔
تیرہویں رکوع میں احرام کے مسائل بیان ہوئے ہیں۔ حالت احرام میں خشکی کے شکار سے منع جبکہ سمندری شکار کی اجازت دی گئی ہے۔ چودہویں رکوع میں کثرت سوال سے منع کیا گیا ہے۔ گواہی کا نصاب بتایا گیا کہ کسی بھی معاملے پر دو صاحب عدل افراد کو گواہ بنایا جائے۔ پندرہویں اور سولہویں رکوع میں ہے کہ بروز قیامت اللہ تعالیٰ تمام انبیاء بالخصوص سیدنا عیسیٰؑ سے ان کی امتوں کی بد اعتقادیوں اور بد اعمالیوں کے متعلق سوال کریں گے تو وہ ان کے کرتوتوں سے بیزاری کا اعلان کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اللہ تعالی انہوں نے اہل کتاب رکوع میں دیا گیا کیا گیا کے ساتھ کے بدلے کا حکم گئی ہے گیا کہ
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ