Jasarat News:
2026-07-24@03:32:20 GMT

بنگلا دیش الیکشن بھارت اور پاکستان میں ٹینشن

اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260222-03-6
بارہ فروری کو اِنتخاب بنگلا دیش میں ہوا ہے مگر اس کی گھبراہٹ کی بازگشت بھارت اور پاکستان میں سنائی دے رہی ہے۔ بھارت کی بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ اس کے پندرہ سالہ غلبے اور پچپن سالہ محنت کا صفایا ہوگیا ہے، اسے شیخ حسینہ کے اقتدار کے خاتمے کا قلق تو تھا ہی لیکن جس جماعت کو کچل کر مسل کر پھینک دینے کے لیے بھارتی ریاستی مشینری برسوں سے دن رات سرگرم تھی وہی جماعت اسلامی الیکشن میں ابھر کر سامنے آرہی تھی پوری انتخابی مہم میں بھی بھارتی تجزیہ نگاروں کا نشانہ محض جماعت اسلامی ہی تھی، اور ان کا کہنا تھا کہ پوری تحریک دراصل جماعت اسلامی نے چلائی اور حسینہ کا تختہ بھی اسی نے الٹا ہے۔

پھر جب انتخابات کا اعلان ہوا جماعت اسلامی بھرپور انتخابی مہم کے تحت میدان میں ابھری تو ان ہی پاکستان دشمن بھارتی تجزیہ نگاروں کو عشروں سے بری لگنے والی بی این پی سے ہمدردی ہوگئی، پاکستانی جرنیل کی بیوی خالدہ ضیا کے انتقال کو ہمدردی سمیٹنے کا بہانہ بنایا اور اچانک ازلی دشمن پاکستان کی فوج کے ایک جرنیل کے بیٹے طارق رحمن کو وزیر اعظم بنگلا دیش بنوانے پر کمر بستہ ہوگئے، ان کا خیال تھا کہ ہم نے جماعت اسلامی کو حسینہ واجد کی مدد سے ختم کردیا ہے اور الیکشن میں بھی ایک دو سیٹوں سے زیادہ نہیں لے سکے گی لیکن سیاسی سرگرمیاں شروع ہوتے ہی انہیں، بلکہ ساری دنیا کو اندازا ہوگیا کہ جماعت اسلامی ختم نہیں ہوئی مزید مضبوط ہوگئی ہے، اس کے بعد انتخابی عملے اور سول سروسز میں موجود حسینہ کی باقیات نے پوری جانفشانی سے کام کیا اور جہاں موقع ملا انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوئے، اس کے نتیجے میں تقریباً پچاس نشستوں پر جماعت اسلامی نہایت قلیل ووٹوں کے فرق سے ہار گئی یا ہروا دی گئی، اس کا اندازا نہیں کہ پاکستان کہ طرح آرٹی ایس بٹھانے یا فارم 47 کے معاملے میں بنگلا دیش کتنا آگے ہے لیکن جماعت اسلامی نے حیرت انگیز طور پر 77 نشستیں حاصل کرلیں، بھارتی میڈیا، ان کو چلانے والی ایجنسیاں اور نام نہاد تجزیہ نگار بھی بھونچکا رہ گئے۔ ان کو خطرہ ہوا کہ جماعت اسلامی حکومت میں شامل نہ ہوجائے، کہیں ایسا نہ ہوجائے کہیں ویسا نہ ہوجائے۔ لیکن جماعت اسلامی کی قیادت نے نہایت ٹھوس انداز میں پورے تحمل سے نتائج کا تجزیہ کیا اور نہایت محتاط انداز میں صرف 30 حلقوں کے نتائج رکوانے، حلف بردای رکوانے اور دوبارہ گنتی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ جماعت کو پچاس سے زیادہ نشستوں پر بے ضابطگیوں کی شکایت ہے، تاہم ان 30 نشستوں پر ٹھوس ثبوت ہیں اور فرق بھی بہت کم ہے۔

ایک نقطہ نظر یہ بھی ہے: جماعت اسلامی کی اکیاون نشستیں ایسی ہیں جہاں چار سے پانچ سو ووٹ سے جماعت اسلامی کے مقابلے میں بی این پی کو برتری حاصل ہوئی۔ جماعت اسلامی کو جن اکیاون نشستوں میں انتہائی قلیل ووٹوں سے کامیابی نہ مل سکی اْس کا بڑی ذمے داری وہاں کی مذہبی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے، بنگلا میں مدارس کا ایک جال بچھا ہوا ہے، ان مدارس کی نمائندہ تنظیموں نے الگ حیثیت سے انتخاب میں حصہ لیا۔ جیسے اسلامی اندولن بنگلا دیش نے 253 نشستوں پر امیدوار اُتارے لیکن صرف ایک امیدوار کامیاب ہوسکا۔ اسی طرح فرائضی اندولن، ذاکر پارٹی نے بھی سیکڑوں کی تعداد میں امیدوار کھڑے کیے لیکن کہیں ایک نشست پر کامیابی ممکن نہ ہوئی۔ اسی طرح حفاظت اسلام بنگلا دیش، بنگلا دیش نظام اسلام پارٹی جیسی جماعتوں نے بی این پی کی کھل کر حمایت کی۔ اس کے علاوہ حسینہ واجد کے دورِ اقتدار میں بنگلا دیش کے ہر ادارے میں تھوک کے حساب سے لوگوں کو بھرتی کیا گیا، بیوروکریسی میں لایا گیا، جو الیکشن میں حرکت میں لائے گئے، اس پوری صورت حال میں جماعت کا شاندار طریقے سے ابھرنا کوئی معمولی بات نہیں۔

یہاں ایک سوال یہ بھی ہے کہ جماعت اسلامی نے اب تک کیا ثمرات سمیٹے۔ جماعت اسلامی اپنی مہم کے ذریعے اور بیانیے کی بنیاد پر اٹھارہ سے ستتر نشستوں تک پہنچ گئی اور اکیاون نشستوں پر معمولی فرق سے ہار گئی، جماعت اسلامی نوجوانوں کی مقبول ترین جماعت بن گئی ہے۔ جماعت اسلامی نے پابندی کے بعد پھر سے اپنی تنظیم کو وسعت دی اور مضبوط کیا۔ بنگلا دیش جماعت اسلامی نے دنیا بھر کی تحریکوں کو امیدکی کرن دکھائی ہے۔ بنگلا دیش کا معاملہ تو دو قومی نظریے سے جڑا ہے اس لیے ہم پاکستانی اس لیے بھی بنگلا دیش میں جماعت اسلامی کو سپورٹ کرتے ہیں کہ وہ دو قومی نظریہ کے محافظ ہیں۔ لیکن یہاں کے لبرلز کہتے ہیں کسی صورت رائٹ ونگ قبول نہیں بے شک بھارت نواز لوگ ہی اقتدار میں کیوں نہ آئیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ لوگ بھی نہیں آئے۔ ان لبرلز اور دین بیزار لوگوں کو تو سمجھ ہی میں نہیں آرہا کہ بات کیا کریں، اب ذرا تصور

کریں کہ پاکستان میں سیکولرزم اور لِبرلزم کے سیاسی بیانیے کا کیا حال ہوگا۔ اسی طرح بنگلا دیش میں جَماعَتِ اِسلامی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت پاکستان کے کچھ حلقوں کے لیے بے چینی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ اُلٹے سیدھے تجزیے کیے جارہے ہیں، ایک صحافتی وفد میں شامل صاحب نے تو ڈھاکا مین ڈراما رچایا کہ خواتین نے جماعت اسلامی کو ووٹ نہیں دیے، حالانکہ جماعت اسلامی نے چالیس فی صد ووٹ حاصل کیے ہیں۔ پروپیگنڈا اتنا تھا کہ جماعت کے ہمدردوں کا وہ گروہ بھی جو خود مذمتی میں واٹس اپ گروپوں میں ماہر ہے اور اس خود مذمتی کی بحث میں چسکے لیتا ہے اسے بھی یہ بیانیہ دیا گیا کہ اب فارم 47 اور دھاندلی کے روایتی الزام لگیں گے، دھرنے ہوں گے اور ٹائیں ٹائیں فش، لیکن جماعت اسلامی بنگلا دیش نے سیکولر، لبرزکی طرح ایسے واٹس ایپی دانشوروں کو بھی مایوس کردیا اور نہایت ٹھوس موقف کے ساتھ صرف 30 نشستوں کو قانون کے دائرے میں چیلنج کیا ہے، جماعت اسلامی بنگلادیش نے خطے کی تمام تحریکوں خصوصاً جماعت اسلامی پاکستان کے لیے بھی واضح اشارے چھوڑے ہیں کہ سیاسی لائحہ عمل کو کیسے آگے بڑھایا جائے۔ اور میدان کیسے ہاتھ میں رکھا جائے، اس کی روداد ابتلا مصر کے اخوان اور فلسطین کے مجاہدوں سے کم نہیں بلکہ بعض معاملات میں تو آگے ہی ہے، ہاں، اس سارے عمل میں جماعت اسلامی بنگلا دیش کے طرزعمل اور رویوں میں سید مودودی کی فکر، رویے، لٹریچر سے وابستگی، حکمت عملی اور دانش بہت واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔ اور یہی سیکھنے کی چیز ہے۔

مظفر اعجاز سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہ جماعت اسلامی جماعت اسلامی کو جماعت اسلامی نے بنگلا دیش نشستوں پر

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی