Jasarat News:
2026-06-02@22:28:21 GMT

ملکی معیشت، غربت اور سماجی انصاف

اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260222-03-2
بین الاقوامی ساہوکار، عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستانی معاشی فیصلہ سازوں کو اطمینان دلایا ہے کہ ہماری فراہم کردہ پالیسیوں پر عملدرآمد کے نتیجے میں پاکستانی معیشت ترقی و استحکام کی جانب گامزن ہے۔ واشنگٹن میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ادارے کی ڈائریکٹر کمیونیکیشن جولی کوزیک نے پاکستان کی معاشی اصلاحات کی تعریف کی اور بتایا کہ توسیعی فنڈ سہولت کے تحت پاکستان کی پالیسیوں سے معیشت کو استحکام اور اعتماد کی بحالی میں مدد ملی ہے، پاکستان میں مہنگائی کی شرح قابو میں رہی جب کہ مالی سال 2025ء میں چودہ سال کے دوران پہلی بار کرنٹ اکائونٹ سرپلس ریکارڈ کیا گیا۔ اس سال کے دوران مالیاتی کارکردگی مضبوط رہی اور عالمی اداروں کا اعتماد بحال ہوا ہے ملک نے 1.

3 فی صد کے برابر بنیادی مالیاتی سر پلس حاصل، کیا یہ پیش رفت معاشی اصلاحات کے تسلسل کا نتیجہ ہے تاہم جولی کوزیک نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف کا وفد 25 فروری سے پاکستان کا دورہ کرے گا جس کے دوران سات ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تحت تیسرے جائزے اور 1.3 ارب ڈالر کی لچک اور پائیداری سہولت کے تحت دوسرے جائزے پر مذاکرات کیے جائیں گے۔ آئی ایم ایف نے ٹیکس نظام میں سادگی اور سرکاری خریداری کے نظام میں شفافیت بڑھانے پر زور دیا ہے۔ آئی ایم ایف نے اس صورت حال کو ملک کے معاشی توازن کی جانب اہم قدم قرار دیا ہے۔ پاکستان کی معیشت کی ایک تصویر تو آئی ایم ایف کی جانب سے مندرجہ بالا سطور میں دکھائی گئی ہے اور ایک دوسری تصویر وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی قوم کے سامنے پیش کی ہے جنہوں نے ملک میں غربت کی بنیادی وجہ اپنے سیاسی مخالف عمران خاں کے دور حکومت پر عائد کرتے ہوئے۔ 2018ء سے 2022ء تک کی معاشی بدحالی غربت کا بڑا سبب ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ بے مثال مہنگائی، کمزور معاشی نمو، آئی ایم ایف کے زیر اہتمام تین بیل آئوٹ پیکیجز، کووڈ۔ 19 کی وبا، زرمبادلہ کی قدر میں شدید کمی اور دو سیلابوں کے پس منظر میں پاکستان میں غربت اور عدم مساوات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں 2024-25ء کے مالی سال میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9 فی صد تک جا پہنچی ہے۔ ملک میں غربت کا تخمینہ لگانے والی کمیٹی کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق 24 کروڑ نفوس پر مشتمل آبادی میں سے تقریباً چھے کروڑ 94 لاکھ افراد خط ِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ دیہات میں غربت کی شرح 26.2 فی صد سے بڑھ کر 28.2 فی صد ہو گئی ہے جب کہ شہری علاقوں میں غربت کی شرح 11 فی صد سے بڑھ کر 17.4 فی صد ہو گئی ہے، ملک میں سب سے زیادہ غربت کا شکار صوبہ بلوچستان ہے جہاں غربت کی شرح 47 فی صد ہے، اس کے بعد صوبہ خیبر پختون خوا میں غربت کی شرح 35.3 فی صد، سندھ میں 32.3 فی صد اور پنجاب میں غربت کے شکار افراد کی شرح 23.3 فی صد ہے، سال 19-2018 میں صوبوں میں غربت کی شرح کے اعداد وشمار کے مطابق بلوچستان میں 41.8 فی صد، خیبر پختون خوا 28.7 فی صد سندھ 24.5 فی صد اور پنجاب میں غربت کی شرح 16.5 فی صد تھی۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی پروفیسر ڈاکٹر احسن اقبال اور ان کی وزارت کے تحت غربت کا تخمینہ لگانے والی کمیٹی کے پیش کردہ غربت و افلاس میں اضافہ کے ان اعداد وشمار سے سامنے آنے والی ملک کی معیشت کی تصویر اس تصویر کے قطعی برعکس ہے جو آئی ایم ایف کی جانب سے واشنگٹن میں دی گئی بریفنگ میں پیش کی گئی ہے اعداد وشمار کے اس تضاد نے پاکستان کے عوام کو پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے کہ کس پر یقین کریں اور کس کو غلط جان کر مسترد کر دیں۔ سوال یہ ہے کہ جب معیشت جیسے حساس شعبہ میں اعداد وشمار میں اس طرح کا تضاد نمایاں ہو کر سامنے آ رہا ہو تو پھر حکومت کے دیگر شعبوں سے متعلق اعداد وشمار اور رپورٹوں پر کیوں کر اعتماد کیا جا سکتا ہے معیشت کا براہ راست تعلق معاشرت سے ہے اور گزشتہ روز اسی حوالے سے سماجی انصاف کا عالمی دن منایا گیا اس دن پر اپنے پیغام میں ملک کے سب سے بڑے صوبے کی وزیر اعلیٰ محترمہ مریم نواز، جنہیں اپنے صوبے میں تعمیر و ترقی اور خوش حالی کے حوالے سے سب سے تیز رفتاری سے اور نتیجہ خیز کام کروانے کا دعویٰ ہے، کا ارشاد ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت سماجی انصاف پر پختہ یقین رکھتی ہے، سماجی انصاف کو یقینی بنانا ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے، ہمارا دین اسلام سماجی انصاف، مساوات اور پر امن بقائے باہمی کی تلقین کرتا ہے، سماجی انصاف سے عاری معاشرے ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں مہذب معاشرے کی بنیاد ہی سماجی انصاف اور مساوات ہے، امیر غریب کی بڑھتی معاشی خلیج سے سماجی مسائل جنم لے رہے ہیں، مینارٹی کارڈ اور ہمت کارڈ سمیت دیگر پروگرام سماجی انصاف کے ہدف کی جانب واضح پیش رفت ہے۔ محترمہ مریم نواز کو دعویٰ ہے کہ وفاق میں ان کے چچا محترم محمد شہباز شریف اور پنجاب میں ان کی اپنی نواز لیگ کی حکومت سماجی انصاف پر پختہ یقین رکھتی ہے اور سماجی انصاف کو یقینی بنانا ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے انہوں نے اس ضمن میں دین اسلام کی تعلیمات اور رسول کریمؐ کے اسوۂ حسنہ کا حوالہ بھی دیا ہے مگر عملی صورت اور زمین حقائق جس جانب نشاندہی کر رہے ہیں اس کی تصویر کشی مسلم لیگ (ن) ہی کے وفاقی وزیر کی غربت کی شرح میں تیز رفتاری سے اضافہ کی صورت میں قوم کے سامنے کر دی گئی ہے اب آئیے ذرا دیکھیں کہ پنجاب حکومت صوبے میں سماجی انصاف کو کس طرح یقینی بنا رہی ہے وزیر اعلیٰ کے بقول نواز لیگ کی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ایک جانب تو ملک میں غربت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور لوگ اپنے روز مرہ اخراجات اور دو وقت کی روٹی پوری نہ کر سکنے کے سبب اپنے بچوں سمیت خود کشیوں پر مجبور ہیں مگر دوسری جانب ہمارے حکمران سماجی انصاف کے تقاضے اس طرح پورے کر رہے ہیں کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے اپنے سفر کے لیے دنیا کا جدید ترین ہر طرح کی آسائشوں سے آراستہ مہنگا ترین طیارہ قومی خزانے سے خرید فرمایا ہے جس پر ایک ایک ڈالر کو ترستے اور آئی ایم ایف کی منتیں کرتے اس ملک کے خزانے سے 18 ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کر دی گئی ہے اور دوسری جانب یہ خبر بھی اخبارات کی زینت بنی ہے کہ پنجاب حکومت نے اپنے افسران کے لیے نئی ٹرانسپورٹ پالیسی جاری کر دی ہے جس کے مطابق چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس تین سرکاری گاڑیاں اپنے استعمال میں رکھ سکیں گے جن میں وہ 2800 اور 1800 اور 4700 سی سی کی گاڑیاں استعمال کریں گے۔ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس کی 2 گاڑیوں کے لیے ہر ماہ 800 لیٹر پٹرول ملے گا، چیف سیکرٹری اور آئی جی پنجاب کی 4700 سی سی گاڑی کے پٹرول کی کوئی حد مقرر نہیں جب کہ پہلے چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب 1300 اور 1600 سی سی گاڑیاں رکھنے کے مجاز تھے۔ پہلے چیف سیکرٹری اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو ڈیوٹی پر گاڑی کے لیے 200 لیٹر پٹرول ماہانہ ملتا تھا تاہم پنجاب سرکاری دورے پر جانے والی گاڑی کے لیے پٹرول کی کوئی حد مقرر نہیں تھی۔ پنجاب حکومت کے اس نوٹیفکیشن سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نواز لیگ کس قدر سادگی سے وفاق اور صوبے میں حکومت چلا رہی ہے اور اسے سماجی انصاف کی اپنی اولین ترجیح کا کس قدر خیال ہے۔

اداریہ سیف اللہ

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: چیف سیکرٹری اور ا میں غربت کی شرح چیف سیکرٹری ا اولین ترجیح سماجی انصاف ا ئی ایم ایف کی حکومت کی جانب ملک میں غربت کا رہے ہیں نے والی ہے اور گئی ہے کے تحت کے لیے

پڑھیں:

وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافہ اور معیشت کی مجموعی ترقی کے لئے شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لئے صنعت وحرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ صنعتی مصنوعات کی ملکی پیداور اضافے کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کے لیے موٴثر پالیسی اقدامات حکومتی ترجیحات کا حصہ ہیں، صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات کا مقصد طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح ہونا چاہئے۔ 

ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار

وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو متبادل توانائی کے ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام ہو رہا ہے، توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مختلف شعبوں میں شمولیت کے لئے تمام وزارتیں اور ماہرین کی بامعنی مشاورت کو یقینی بنائیں، موثر ترقیاتی پالیسیز کی تشکیل و نفاذ کے لیۓ تمام وزراتیں باہمی تعاون اور ہم آہنگی سے کام کریں، تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر

اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سی مختلف زیر غور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر پاور ڈیویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، کے معاون خصوصی ہارون اختر اور ڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی میجر جنرل اسد الرحمن چیمہ اور متعلقہ اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور