data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
آج کی تراویح میں چھٹے پارے کے آغاز سے ساتویں پارے کے ربع تک تلاوت کی جائے گی جو سورہ النساء کے آخری حصے اور سورہ المائدہ مکمل پر مشتمل ہے۔
سورہ النساء کے اس آخری ربع میں اہل ایمان کو ظلم و جبر کے ماحول میں صبر و استقامت اور اپنی اخلاقی برتری قائم رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس حصے کا اکثر کلام اہل کتاب سے متعلق ہے۔ جس میں ان کی ریشہ دوانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ انہوں نے آپؐ سے قبل سیدنا موسیٰؑ کو بھی اسی طرح تکالیف سے دوچار کیا ہے۔ بنی اسرائیل کی جانب سے سیدنا عیسیٰؑ کے قتل کی کوشش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں صحیح سلامت آسمان پر اٹھالیا، لیکن وہ اس بات پر بھی فخر کرتے ہیں کہ ہم نے عیسیٰؑ کو قتل کردیا۔ یہاں پر عیسائیوں کے عقیدۂ تثلیث (تین خدا) کی بھی نفی کی گئی کہ الٰہ صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
سورہ المائدہ مدنی سورت ہے جو صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی۔ اس سورت کے زیادہ تر مضامین احکام اور اسلامی قوانین پر مشتمل ہیں۔ اس سورت میں حج، وضو، غسل، تیمم، کھانے پینے کی اشیاء میں حلت و حرمت، اہل کتاب کے ساتھ کھانا اور ان کی عورتوں سے نکاح کی اجازت، شراب و جوئے کی حتمی حرمت، قسم توڑنے کا کفارہ اور گواہی کے قانون کی تفصیلات بھی اس سورت کے مضامین میں شامل ہیں۔ یہودیوں اور عیسائیوں کو ان کے غلط رویے پر متنبہ کیا گیا کہ وہ راہ راست پر آجائیں۔
سورت کے پہلے رکوع میں اہل ایمان کو اللہ کی قائم کردہ حدود و قیود کی پابندی اور شعائر اللہ کی بے حرمتی سے منع کیا گیا۔ مردار، خون ، خنزیر، اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کے نام پر ذبیحے کو حرام قرار دینے کے ساتھ ساتھ حلت و حرمت کے دیگر مسائل بیان کیے گئے۔ اہل کتاب کی خواتین کے ساتھ نکاح کو جائز جبکہ مسلم خاتون کے اہل کتاب مرد کے ساتھ نکاح کو ناجائز قرار دیا گیا۔ دوسرے رکوع میں وضو کا طریقہ، غسل جنابت کا حکم، نواقض وضو اور پانی پر دسترس نہ ہونے کی صورت میں تیمم کی یاد دہانی کروائی ہے جس کا حکم سورت النساء میں ذکر چکا ہے۔ تیسرے رکوع میں یہود و نصاریٰ کی بد عہدیوں اور ان کی وجہ سے معاشرے میں پیدا ہونے والے بگاڑ کو بیان کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے ان کے راہ راست پر چلنے کے وعدے کے بدلے میں اپنی نصرت کا یقین دلایا تھا لیکن جب انہوں نے راہ راست چھوڑ دی تو ان پر اللہ کی پھٹکار برسی۔ چوتھے رکوع میں ہے کہ بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات کے بعد فلسطین میں داخلے کے لیے عمالقہ قوم سے جہاد کا حکم دیا گیا تو انہوں نے انکار کردیا، سزا کے طور پر وہ چالیس سال تک اسی وادی میں بھٹکتے رہے۔ جب یہ نسل مر کھپ گئی تو نئی نسل نے جہاد کیا اور فلسطین فتح کیا۔
پانچویں رکوع میں پہلے قتل انسانی کا بیان ہے کہ سیدنا آدمؑ کے بیٹوں میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کردیا۔ اگلی آیت میں ایک انسان کو بلا سبب شرعی قتل کرنا پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا گیا۔ اسلامی ریاست میں فتنہ و فساد، قتل و غارت گری اور ڈاکا زنی کی سزا کا تعین کیا گیا۔ چھٹے رکوع میں چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا بطور حد قرار دیا گیا۔ ساتویں رکوع میں مزید حدود شرعی کا ذکر ہے کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک ، کان کے بدلے کان ، دانت کے بدلے دانت ، اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ لیا جائے۔ آٹھویں رکوع میں یہود و نصاریٰ سے دوستی کو منع کیا گیا ہے کہ وہ کبھی بھی تمہارے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ نویں رکوع میں یہودیوں کی جانب سے نماز، اذان اور دیگر شعائر اسلام کا مذاق اُڑانے کی مذمت کی گئی ہے کہ انہوں نے خود تو اپنے دین کا حلیہ بگاڑ دیا ہے اب شعائر اسلامی کا مذاق اُڑاتے ہیں۔
دسویں رکوع میں آپؐ کو حق تبلیغ ادا کرنے کا حکم دیا گیا کہ جو کچھ بھی آپؐ کی طرف وحی کی جاتی ہے وہ لوگوں تک پہنچادیں۔ گیارہوں رکوع میں یہود و نصاریٰ کے طرز عمل اور رویے کو بیان کیاگیا ہے۔ بارہویں رکوع میں قسم توڑنے کا کفارہ ( دس مسکینوں کا کھانا کھلانا، انہیں کپڑے فراہم کرنا، ایک غلام آزاد کرنا، جو ان کی استظاعت نہ رکھے وہ تین دن روزے رکھے)، اور شراب اور جوئے کی حتمی حرمت بیان کی گئی ہے۔
تیرہویں رکوع میں احرام کے مسائل بیان ہوئے ہیں۔ حالت احرام میں خشکی کے شکار سے منع جبکہ سمندری شکار کی اجازت دی گئی ہے۔ چودہویں رکوع میں کثرت سوال سے منع کیا گیا ہے۔ گواہی کا نصاب بتایا گیا کہ کسی بھی معاملے پر دو صاحب عدل افراد کو گواہ بنایا جائے۔ پندرہویں اور سولہویں رکوع میں ہے کہ بروز قیامت اللہ تعالیٰ تمام انبیاء بالخصوص سیدنا عیسیٰؑ سے ان کی امتوں کی بد اعتقادیوں اور بد اعمالیوں کے متعلق سوال کریں گے تو وہ ان کے کرتوتوں سے بیزاری کا اعلان کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اللہ تعالی انہوں نے اہل کتاب رکوع میں دیا گیا کیا گیا کے ساتھ کے بدلے کا حکم گئی ہے گیا کہ
پڑھیں:
شہدا ء کا مقام اور فضیلت
جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔
ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔
1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔
اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔
احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔