Jasarat News:
2026-06-03@06:40:16 GMT

یورپ میں اسلام تیزی سے پھیلنے کی وجہ

اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

یورپ میں اسلام کا تیزی سے پھیلاؤ ایک ایسا سماجی، فکری اور روحانی رجحان ہے جس نے جدید دور کے مفکرین، محققین اور میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کر رکھی ہے، یہ پھیلاؤ محض ہجرت یا آبادی میں اضافے کا نتیجہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے گہرے فکری، اخلاقی اور تاریخی اسباب کارفرما ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، بیسویں اور اکیسویں صدی میں جب یورپ نے دو عالمی جنگوں، سرمایہ دارانہ نظام کی شدت، خاندانی نظام کے بکھراؤ اور روحانی خلا کا سامنا کیا تو بہت سے افراد نے ایک ایسے نظامِ حیات کی تلاش شروع کی جو انہیں مقصد ِ حیات، اخلاقی توازن اور قلبی سکون فراہم کر سکے، ایسے میں اسلام اپنی سادہ، واضح اور ہمہ گیر تعلیمات کے ساتھ ایک مضبوط متبادل کے طور پر سامنے آیا، تاریخ گواہ ہے کہ اسلام کا پیغام ہمیشہ تلوار سے نہیں بلکہ اخلاق، کردار اور عدل سے پھیلا، اندلس کی مثال یورپ کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے جہاں مسلمانوں کے آٹھ سو سالہ دور میں علم، فلسفہ، طب اور رواداری نے یورپ کی فکری بنیادیں استوار کیں، مؤرخ گوستاو لی بان اپنی کتاب ’’The Civilization of the Arabs‘‘ میں لکھتا ہے کہ یورپ نے علم و حکمت کی روشنی مسلمانوں ہی سے حاصل کی، جدید یورپ میں بھی یہی اخلاقی کشش اسلام کے پھیلاؤ کا سبب بن رہی ہے۔ فرانس، جرمنی، برطانیہ اور سویڈن جیسے ممالک میں ہونے والی تحقیقاتی رپورٹوں کے مطابق ہر سال ہزاروں افراد اسلام قبول کر رہے ہیں، برطانوی اخبار دی انڈیپیڈنٹ اور بی بی سی کی رپورٹوں میں متعدد ایسے واقعات ملتے ہیں جہاں تعلیم یافتہ نوجوانوں، پروفیسرز اور فنکاروں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اس بات کا اعتراف کیا کہ انہیں اسلام میں وہ فکری وضاحت اور روحانی سکون ملا جو انہیں کسی اور مذہب یا فلسفے میں میسر نہ ہو سکا۔

اسلام کی توحید پر مبنی تعلیم انسان کو ایک خدا کے سامنے جواب دہی کا احساس دلاتی ہے جو اخلاقی زندگی کی بنیاد بنتا ہے، یورپ میں خاندانی نظام کے بحران، بڑھتی ہوئی تنہائی اور ذہنی دباؤ کے ماحول میں اسلام کا مضبوط خاندانی تصور، والدین کے احترام اور سماجی ذمے داری کا شعور لوگوں کو متاثر کر رہا ہے، سویڈن میں اسلام قبول کرنے والی ایک معروف خاتون اسکالر این میری شمل کے مطابق اسلام نے انہیں زندگی کو بامقصد انداز میں جینے کا ہنر سکھایا، اسی طرح سابق برطانوی سفارت کار سر ہیملٹن گیب نے بھی اعتراف کیا کہ اسلام محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل سماجی نظام ہے، یورپ میں مسلمانوں کے اخلاقی کردار، دیانت داری اور معاشرتی خدمت نے بھی اسلام کے مثبت تعارف میں اہم کردار ادا کیا ہے، جرمنی اور نیدر لینڈز میں مسلم فلاحی تنظیموں کی جانب سے پناہ گزینوں، غریبوں اور بیماروں کی مدد کے واقعات مقامی میڈیا میں نمایاں ہوئے جنہوں نے غیر مسلموں کے دلوں میں اسلام کے بارے میں مثبت تاثر قائم کیا، 11 ستمبر 2001 کے واقعات کے بعد اگرچہ اسلاموفوبیا میں اضافہ ہوا لیکن اسی دور میں اسلام کے بارے میں تجسس بھی بڑھا، بہت سے لوگوں نے قرآن کا مطالعہ محض تنقید کی نیت سے شروع کیا مگر اس کے پیغام سے متاثر ہو کر اسلام قبول کر لیا، امریکی صحافی جیفری لینگ کا واقعہ مشہور ہے جس نے قرآن کو غلط ثابت کرنے کے لیے پڑھا مگر بالآخر مسلمان ہو گیا اور اپنی کتاب ’’Even Angels Ask‘‘ میں اس سفر کا ذکر کیا، یورپ میں آزادیٔ مذہب کا قانون بھی اسلام کے پھیلاؤ میں معاون ثابت ہوا جہاں ہر فرد کو اپنے عقیدے کے انتخاب کی آزادی حاصل ہے، جدید ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا نے بھی اسلام کے پیغام کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا، یوٹیوب، پوڈکاسٹ اور آن لائن لیکچرز کے ذریعے ڈاکٹر ذاکر نائیک، حمزہ یوسف اور دیگر اسکالرز کی تقاریر نے یورپی نوجوانوں کو اسلام کے عقلی اور سائنسی پہلوؤں سے روشناس کرایا۔

اسلام کی سادہ عبادات، نماز کی روحانی کیفیت، روزے کی تربیت اور زکوٰۃ کا سماجی نظام ایک ایسے معاشرے میں کشش رکھتا ہے جہاں مادیت نے انسان کو تھکا دیا ہے، قرآن کا یہ اعلان کہ ’’الا بذکر اللہ تطمئن القلوب‘‘ بہت سے یورپی افراد کے ذاتی تجربات سے مطابقت رکھتا ہے، یورپ میں اسلام قبول کرنے والوں میں خواتین کی تعداد بھی قابل ِ ذکر ہے جو اسلام کے پردے، عزت اور حقوق کے تصور سے متاثر ہو کر اسے قبول کر رہی ہیں، فرانسیسی مصنفہ راجر گاروڈی نے اسلام قبول کرنے کے بعد لکھا کہ اسلام نے عورت کو صارف نہیں بلکہ باوقار انسان کے طور پر متعارف کرایا، ان تمام وجوہات اور واقعات کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یورپ میں اسلام کا تیزی سے پھیلاؤ کسی وقتی رجحان کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک گہرے فکری، اخلاقی اور روحانی انقلاب کی علامت ہے جو مستقبل میں بھی اپنی رفتار برقرار رکھے گا کیونکہ سچائی کی کشش کو نہ سرحدیں روک سکتی ہیں اور نہ ہی منفی پروپیگنڈا۔

میں نے بہت سے ملکوں کا دورہ کیا کئی کانفرنسوں، سیمیناروں، ورکشاپ میں شرکت کا موقع ملا اور لوگوں سے ملاقاتوں کا میں دل کی گہرائیوں کے ساتھ کہے رہا ہوں لوگ اسلام کی طرف متوجہ ہیں ہم مسلمانوں کو ضروت ہے کہ اپنے عملی کردار سے ثابت کریں کہ ہم مسلمان ہیں اور اسلام کی خیر و برکتوں کا نزول ہو رہا ہے۔ گزشتہ دنوں امریکا کے دورے سے واپسی پر ارادہ کیا کہ ضرور کچھ لکھوں گا۔

محمد جمیل احمد خان سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسلام قبول کرنے یورپ میں اسلام اسلام قبول کر اور روحانی یورپ میں ا نہیں بلکہ اسلام کے اسلام کی اسلام کا بہت سے

پڑھیں:

جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟

اسلام ٹائمز: اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ تحریر: سید محمد

کسی پرانے جوئے خانے کی ایک کہاوت مشہور ہے "تم اس وقت تک حقیقتاً نہیں پھنستے جب تک تمہیں یہ احساس نہ ہو جائے کہ باہر نکلنے کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔" مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیاسی بساط پر اسرائیل یہی کھیل کھیل رہا ہے۔ ظاہری بیانیے کو ایک طرف رکھیں تو ایک واضح حقیقت سامنے آتی ہے: اسرائیل ایران کی ایٹمی صلاحیت یا میزائل پروگرام سے کم اور امریکی انخلا کے محض امکان سے زیادہ خوفزدہ ہے۔ یہ خوف کوئی معمولی تشویش نہیں بلکہ ایک ایسی وحشت ہے، جو اسرائیلی حکمتِ عملی کے ہر پہلو کو تشکیل دے رہی ہے۔

اسرائیل ہر اس راستے کو سبوتاژ کرتا دکھائی دیتا ہے، جو واشنگٹن کو بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کرسکے۔ یہاں جنگ کا مقصد دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ اتحادی کو اس حد تک اندر کھینچ لینا ہے کہ وہ خود جنگ کا قیدی بن جائے۔ سوال یہ نہیں کہ امریکہ اس تنازعے میں شریک رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس حد تک شریک ہو جائے کہ بعد میں الگ نہ ہوسکے۔ یہ حکمتِ عملی ایک نفسیاتی اور سیاسی جال کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ابتدا ہی سے اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کی طرف دھکیلا اور ٹرمپ اپنی طاقت اور امریکی بالادستی کے تصور میں اس قدر گرفتار رہا کہ اسے واپسی کا راستہ دکھائی نہ دیا۔

ایران اور مزاحمتی محاذ کی استقامت نے امریکی عسکری برتری کے اُس طلسم کو چیلنج کر دیا، جسے دہائیوں سے ناقابلِ شکست تصور کیا جاتا تھا۔ اربوں ڈالر کے دفاعی نظام، جدید ٹیکنالوجی اور وسیع عسکری اتحاد بھی خطے میں پیدا ہونے والی نئی بے یقینی کو روک نہ سکے، جبکہ امریکی دفاعی چھتری اور اڈوں کی محدودیت پہلے سے زیادہ نمایاں ہوگئی۔ اسی میدان میں اہداف کا مسلسل سکڑنا بھی صورتِ حال کا مظہر تھا۔ ایران میں رجیم تبدیلی جیسے بڑے ہدف سے شروع ہونے والا معرکہ بلاشرط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے، دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے اور بالآخر آبنائے ہرمز کو کھلوانے جیسے محدود اہداف تک سمٹ آیا، جبکہ امریکی دھمکیاں بھی بتدریج ایرانی سویلین انفراسٹرکچر اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے تک گر آئیں۔

اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ دوسری طرف سفارتی اخراج کا راستہ تھا، مگر یہاں بھی مسئلہ یہ تھا کہ اسرائیل جس صف بندی کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے، وہی امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے لیے معاشی، سیاسی اور سکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتی تھی۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر خلیجی ریاستیں اپنی معیشتوں، توانائی کی تنصیبات اور سرمایہ کاری کے مراکز کے باعث براہِ راست خطرات سے دوچار ہوسکتی تھیں۔ اسی لیے وہ ایسے راستوں کی تلاش میں تھیں، جو ضروری نہیں کہ اسرائیل کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں۔ آج اگر امریکہ اپنے مفادات کے لیے واپس چلا جاتا ہے تو اسرائیل تنہا رہ جاتا ہے، لیکن اگر پورا امریکی وقار، افواج اور سیاسی سرمایہ اس جنگ سے جڑ جائے تو واشنگٹن کے لیے اسرائیل سے فاصلہ اختیار کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

روایتی جنگوں کا مقصد دشمن کو شکست دینا ہوتا ہے، لیکن اسرائیل نے جنگ کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے، جس کا نشانہ دشمن نہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا اتحادی یعنی امریکہ ہے۔ لبنان کا محاذ بھی اب صرف میدانِ جنگ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سفارتی عمل کو متاثر کرنے کا ایک مؤثر آلہ بن چکا ہے۔ جب بھی مذاکرات یا کشیدگی میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے، لبنان دوبارہ مرکزِ توجہ بن جاتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ یا سست کیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچ جاتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ خطے کے اہم معاملات اسرائیل کی براہِ راست شمولیت کے بغیر بھی طے ہوسکتے ہیں اور یہی وہ تاثر ہے، جسے اسرائیل ٹوٹنے نہیں دینا چاہتا۔

بعض ریاستوں کے لیے مستقل بحران خود ایک قیمتی سرمایہ بن جاتا ہے۔ جاری کشیدگی اتحادیوں کو متحد اور سکیورٹی خدشات کو زندہ رکھتی ہے۔ اسرائیل کے لیے فوری امن یا جامع سیاسی تصفیہ شاید اتنا مفید نہیں جتنا ایک ایسا کنٹرولڈ بحران جو مسلسل مغربی حمایت اور علاقائی توجہ کو اس کی طرف کھینچے رکھے۔ یہ تمام عوامل امریکہ کو ایک غیر معمولی اسٹریٹجک دباؤ کے دائرے میں دھکیل چکے ہیں۔ ایک طرف ایران کی ایسی مزاحمت ہے، جو کسی حتمی فوجی حل کو ناممکن بناتی ہے، دوسری طرف اسرائیل کی خواہش ہے کہ واشنگٹن مکمل طور پر بحران میں جکڑا رہے، جبکہ تیسری طرف علاقائی اتحادی کشیدگی میں کمی چاہیتے ہیں تاکہ ان کی معیشتیں اور داخلی استحکام محفوظ رہ سکیں۔ نتیجتاً امریکہ ایک ایسی پوزیشن میں کھڑا ہے، جہاں آگے بڑھنا بھی خطرناک ہے، پیچھے ہٹنا بھی مشکل اور جمود بھی اتحادیوں کے اعتماد کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ بعض اوقات ان کی سب سے بڑی کامیابی مخالف اتحاد کے اندر موجود تضادات، کمزوریوں اور متصادم مفادات کو بے نقاب کرنے اور اس کے سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹجک ڈھانچے میں دراڑیں نمایاں کرنے میں ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حماقت سے نارملائزیشن فریم ورک کو شدید دھچکا پہنچنے کے باوجود، سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور اردن جیسے ممالک پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور واضح سیاسی صف بندی کے لیے دباؤ بڑھانا بھی قابلِ توجہ ہے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک سے ایک ایسے بحران میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ عسکری، معاشی اور سیاسی نتائج کا بوجھ بھی انہیں خود اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مختلف علاقوں میں بارشیں ہی بارشیں؛محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کردی
  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی