پاکستان اور برطانیہ کا مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
—فائل فوٹو
نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے نیویارک میں برطانوی وزیرِ خارجہ سے ملاقات کی۔
سلامتی کونسل کے اجلاس کے موقع پر ہوئی ملاقات میں اسحاق ڈار نے فلسطین پر اہم اجلاس بلانے پر برطانوی وزیرِ خارجہ ایویٹ کوپر کا شکریہ ادا کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور برطانیہ کے دوطرفہ تعلقات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
ملاقات میں عوامی روابط کے فروغ اور اعلیٰ سطح رابطے جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر مؤثر تعاون جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
اسحاق ڈار نے آذربائیجان کے وزیرِ خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہدوسری جانب نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے آذربائیجان کے وزیرِ خارجہ جیحون بایراموف سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ تعاون اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ علاقائی اور عالمی صورتِ حال پر بھی گفتگو ہوئی اور واشنگٹن میں بورڈ آف پیس اجلاس کا ذکر بھی ہوا۔
ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ وزرائے خارجہ نے باہمی دلچسپی کے تمام امور پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔