از فرات تا نیل گریٹر اسرائیل کے امریکی موقف پر سعودیہ کا ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
امریکی سفیر مائیک ہکابی کے بیان کہ صیہونی حکومت کو مشرق وسطیٰ (مغربی ایشیا) پر تسلط کا حق حاصل ہے، کے جواب میں سعودیہ نے کہا ہے کہ ہم اسرائیل کے لیے امریکی سفیر کے بیان کے موقف کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سعودی وزارت خارجہ نے تل ابیب میں امریکی سفیر کے بیانات کی مذمت کی ہے، جنہوں نے خطے پر صیہونی حکومت کے تسلط کی حمایت کی۔ تسنیم نیوز کے بین الاقوامی گروپ کے مطابق سعودی وزارت خارجہ نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے امریکی سفیر مائیک ہکابی کے بیان کہ صیہونی حکومت کو مشرق وسطیٰ (مغربی ایشیا) پر تسلط کا حق حاصل ہے، کے جواب میں کہا ہے کہ ہم اسرائیل کے لیے امریکی سفیر کے بیان کے موقف کی شدید مذمت کرتے ہیں، جس میں پورے مشرق وسطیٰ پر مکمل صیہونی تسلط کو قابل قبول قرار دیا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تل ابیب میں امریکی سفیر کی جانب سے انتہا پسندانہ نقطہ نظر کا اظہار انتہائی خطرناک نتائج کی نشاندہی کرتا ہے اور خطے کے ممالک اور ان کے عوام کے خلاف دشمنی کو ہوا دے کر عالمی سلامتی اور امن کو شدید خطرہ لاحق ہے، ہم امریکی محکمہ خارجہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے سفیر کے اظہار خیال پر اپنا موقف واضح کرے۔ یاد رہے کہ مقبوضہ فلسطین میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے تل ابیب میں امریکی صحافی ٹکر کارلسن کے ساتھ انٹرویو میں نیل سے فرات تک کے صہیونی خواب کی تائید کی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل کو دریائے فرات سے دریائے نیل تک کے علاقے پر تسلط کا حق حاصل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امریکی سفیر میں امریکی سفیر کے
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔