حزب اللہ نے صیہونی جارحیت میں اپنے 8 ارکان کی شہادت کی تصدیق کر دی
اشاعت کی تاریخ: 21st, February 2026 GMT
حزب اللہ لبنان نے شہید کمانڈر حسین محمد یاغی اور دیگر شہداء جن میں محمد ابراہیم الموسوی، علی زید الموسوی، حسین خیر اللہ علاء الدین، احمد حسین الحاج حسن، قاسم علی مہدی، احمد محمد زعيتر اور حسنين ياسر السبلانی شامل ہیں، کی شہادت کا اعلان کیا۔ اسلام ٹائمز۔ لبنان کی اسلامی مزاحمت حزب اللہ نے اسرائیلی جارحیت میں اپنے 8 مجاہدین کی شہادت کی تصدیق کر دی۔ شہداء میں حزب اللہ کا اعلیٰ کمانڈر حسین محمد یاغی بھی شامل تھے۔ ہفتہ کے روز حزب اللہ نے ان شہداء کی تدفین کی۔ تفصیلات کے مطابق حزب اللہ لبنان نے شہید کمانڈر حسین محمد یاغی اور دیگر شہداء جن میں محمد ابراہیم الموسوی، علی زید الموسوی، حسین خیر اللہ علاء الدین، احمد حسین الحاج حسن، قاسم علی مہدی، احمد محمد زعيتر اور حسنين ياسر السبلانی شامل ہیں، کی شہادت کا اعلان کیا۔ آج بعلبک شہر میں ان شہداء کی نمازِ جنازہ اور تدفین کی تقریبات منعقد ہوئیں جو گزشتہ روز بقاع پر اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے تھے۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق، اسرائیلی قابض فوج نے بقاع کے مختلف قصبوں پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 10 افراد شہید اور 24 زخمی ہوئے، زخمیوں میں 3 بچے بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی جارحیت میں ریاق، بدنایل، قصرنبا اور تمنین کے میدانی علاقوں (سہل تمنین) کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔