امریکا : ٹرک ڈرائیوروں کے لیے انگلش ٹیسٹ لازمی قرار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260222-06-2
واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا میں ٹرک اور بس ڈرائیوروںکے لیے کمرشل ڈرائیونگ لائسنس ٹیسٹ انگریزی زبان میں لیے جائیں گے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ٹرانسپورٹیشن انڈسٹری میں حفاظتی اقدامات سخت کرنے اور نااہل ڈرائیورز کو سڑکوں سے ہٹانے کی مہم کو مزید وسعت دے دی ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ شان ڈفی نے اس نئے اقدام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ڈرائیوروں کے لیے وفاقی تقاضوں کے مطابق انگریزی زبان سمجھنا لازمی ہوگا تاکہ وہ سڑکوں پر لگے اشارے پڑھ سکیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مؤثر انداز میں رابطہ کر سکیں۔انہوں نے بتایا کہ فلوریڈا میں پہلے ہی ڈرائیونگ لائسنس کے ٹیسٹ انگریزی میں لینا شروع کیے جا چکے ہیں۔اس وقت کئی ریاستیں ڈرائیورز کو دیگر زبانوں میں بھی امتحان دینے کی اجازت دیتی ہیں، حالانکہ ان کے لیے انگریزی مہارت کا مظاہرہ کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ ریاست کیلیفورنیا 20 مختلف زبانوں میں ٹیسٹ کی سہولت فراہم کرتی رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔