آسٹریلیا: یہودی معبد میں گاڑی گھسانے والا شخص گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260222-06-3
کینبرا (انٹرنیشنل ڈیسک) آسٹریلیا کے شہر برسبین میں واقع یہودی عبادت خانے میں گاڑی گھسانے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کرلیا گیا ۔32 سالہ شخص نے اپنی کار ٹوئوٹا ہائی لکس کو برسبین سیناگوگ کے دروازے سے ٹکرایا۔خوش قسمتی سے کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ہے لیکن املاک کو نقصان پہنچا۔ پولیس نے جلد ہی ملزم کو گرفتار کر لیا اور اس کے خلاف متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں جن میں ہتھیار یا گاڑی کا خطرناک استعمال، جان بوجھ کر نقصان پہنچانا اور دہشت یا نفرت کی بنیاد پر جرم کا ارتکاب شامل ہیں۔منشیات کے زیرِ اثر ہونے یا منشیات کے قبضے اور استعمال کے آلات رکھنے کے الزامات بھی شامل ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق ملزم کو برسبین میجسٹریٹس کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔ کویئنزلینڈ کے وزیر اعلیٰ نے واقعے کو انتہائی پریشان کن قرار دیا اور کہا کہ یہ یہودی کمیونٹی کے لیے ذہنی دباؤ اور خوف کا باعث بن سکتا ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے اور وہ کمیونٹی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات بڑھا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔