لیبیا اور یونان کے ساحلوں پر 8 تارکینِ وطن کی لاشیں برآمد، مزید ہلاکتوں کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
لیبیا اور یونان کے ساحلوں پر پیش آنے والے 2 الگ الگ واقعات میں کم از کم 8 تارکینِ وطن اور پناہ گزین ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ متعدد افراد کو بچا لیا گیا۔
لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے قریب ساحلی قصبے قصرالاخیر میں ہفتے کے روز 5 پناہ گزینوں کی لاشیں ساحل پر بہہ کر آ گئیں، پولیس کے مطابق مقامی شہریوں نے لاشیں دیکھ کر انہیں اطلاع دی۔
یہ بھی پڑھیں: گیمبیا کے ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی کشتی الٹ گئی، درجنوں افراد لاپتا
پولیس کے مطابق تمام لاشیں سیاہ فام افراد کی تھیں جن میں 2 خواتین بھی شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مقامی افراد نے ایک بچے کی لاش بھی ساحل پر دیکھنے کی اطلاع دی تھی، تاہم لہریں شاید اسے دوبارہ سمندر میں لے گئیں، انہوں نے بتایا کہ لاشوں کی بازیابی کے لیے ہلالِ احمر کو مطلع کر دیا گیا ہے اور مزید لاشوں کے ساحل پر آنے کا خدشہ ہے۔
5 bodies of migrants washed ashore in east of Libya's capital Tripoli, police officer says https://t.
— Reuters (@Reuters) February 22, 2026
یہ واقعہ اس سانحے کے چند ہفتوں بعد پیش آیا ہے جس میں مغربی طرابلس کے علاقے زوارہ کے ساحل کے قریب 55 افراد کو لے جانے والی ربڑ کی کشتی الٹنے سے 2 شیر خوار بچوں سمیت کم از کم 53 تارکینِ وطن ہلاک یا لاپتا ہو گئے تھے۔
دوسری جانب مشرقی بحیرۂ روم میں یونان کے جزیرے کریٹ کے قریب ایک اور کشتی حادثے میں 3 افراد ہلاک ہو گئے۔
مزید پڑھیں: کشتیوں کے ذریعے برطانیہ پہنچنے والے غیرقانونی تارکین وطن کی تعداد میں ہوشربا اضافہ
ایتھنز نیوز ایجنسی کے مطابق لکڑی کی کشتی میں سوار کم از کم 20 افراد کو بچا لیا گیا، جن میں زیادہ تر مصری اور سوڈانی شہری شامل ہیں جبکہ 4 کم سن بچے بھی ان میں موجود تھے۔
یونانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق کشتی اس وقت الٹ گئی جب امدادی کارروائی کے دوران مسافر ایک تجارتی جہاز کی سیڑھیوں پر چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے۔
یونانی کوسٹ گارڈ کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کے لیے 4 گشتی کشتیاں، ایک طیارہ اور یورپی سرحدی ایجنسی کے 2 جہاز تعینات کیے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کشتی میں تقریباً 50 افراد سوار تھے، اسی علاقے میں تقریباً 40 تارکینِ وطن کو لے جانے والی ایک اور کشتی بھی دیکھی گئی جس کے بعد ایک اور امدادی آپریشن شروع کیا گیا۔
مزید پڑھیں: ترکیہ کے مغربی ساحل کے قریب تارکینِ وطن کی کشتی ڈوبنے سے 17 افراد ہلاک
ہر سال ہزاروں افراد لیبیا سے بحیرۂ روم کے راستے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں، 2011 میں طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے معمر قذافی کے اقتدار کے خاتمے کے بعد لیبیا تنازعات اور بدامنی کے باعث افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ سے آنے والے افراد کے لیے یورپ جانے کا اہم ٹرانزٹ روٹ بن چکا ہے۔
گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ لیبیا میں موجود تارکینِ وطن، جن میں کم عمر لڑکیاں بھی شامل ہیں، قتل، تشدد، زیادتی اور جبری مشقت کے خطرات سے دوچار ہیں۔
رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا کہ جب تک انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی نہ بنایا جائے، تارکینِ وطن کی کشتیوں کو واپس لیبیا بھیجنے کا سلسلہ روکا جائے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق 2025 کے دوران اب تک 16 ہزار 770 سے زائد پناہ کے متلاشی افراد جزیرہ کریٹ پہنچ چکے ہیں، جبکہ اسی سال یونانی سمندری حدود میں 107 افراد ہلاک یا لاپتا ہوئے۔
مزید پڑھیں: برطانیہ میں اسائلم کے نئے قوانین متعارف، پاکستانی پناہ گزینوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟
بڑھتی ہوئی آمد کے پیش نظر یونان کی قدامت پسند حکومت نے گزشتہ موسمِ گرما میں، خصوصاً لیبیا سے آنے والوں کے لیے، 3 ماہ تک پناہ کی درخواستوں کی کارروائی معطل کر دی تھی۔
بحیرۂ روم کا خطرناک سفر ایک بار پھر انسانی المیے کی صورت اختیار کر گیا ہے، اور یورپ پہنچنے کی امید میں جانیں ضائع ہونے کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امدادی آپریشن انسانی حقوق ایتھنز بحیرہ روم پناہ گزین تارک وطن سوڈانی سیاہ فام طرابلس لیبیا مصری
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ ایتھنز پناہ گزین تارک وطن سوڈانی سیاہ فام لیبیا کے مطابق کے قریب کے ساحل کی کشتی وطن کی کے لیے
پڑھیں:
جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) چڑھتے ہوئے سورج کی سرزمین کہلانے والی مشرق بعید کی روایت پسند بادشاہت جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق پولیس حکام کے ساتھ ساتھ میڈیا رپورٹوں میں بھی بتایا گیا کہ شمالی جاپان کے شہر فوکوشیما میں ایک جنگلی ریچھ نے متعدد حملے کر کے منگل کے روز مجموعی طور پر چار شہریوں کو زخمی کر دیا۔
سویڈن میں بھورے ریچھ کے شکار پر تحفظ پسندوں کو گہری تشویش
فوکوشیما جاپان کے جس پریفیکچر یا انتظامی علاقے میں واقع ہے، وہاں کی پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ''ریچھ کے حملوں کی وجہ سے انسانوں کے زخمی ہونے کے تازہ واقعات میں، جو فوکوشیما شہر میں پیش آئے، چار افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
کینیڈا کے قطبی ریچھ معدومیت کے خطرے سے دوچار
ریچھ نے حملے دو فیکٹریوں اور ایک رہائشی علاقے میں کیےاس مقابلتاﹰ عظیم الجثہ جنگی جانور نے یہ حملے دو فیکٹریوں میں اور ایک رہائشی علاقے میں کیے۔
مقامی پولیس کے سربراہ اور فائر بریگیڈ کے عملے کا بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے جاپانی میڈیا نے بتایا کہ اس ریچھ کو پہلے موٹر گاڑیوں کے پرزے بنانے والی ایک فیکٹری میں دیکھا گیا تھا، جس کے بعد پولیس کو کی گئی ایک ایمرجنسی کال میں اطلاع دی گئی تھی کہ اس ریچھ کے کاٹنے سے ''ملازمین زخمی‘‘ ہو گئے تھے۔ناروے: سیاح کو زخمی کرنے والے قطبی ریچھ کو مار دیا گیا
اس واقعے کے بعد یہ جنگلی ریچھ اس فیکٹری سے نکل کر ایک رہائشی علاقے کی طرف بھاگا اور اس کے بعد ایک ایسی دوسری فیکٹری کی طرف جہاں الیکٹرانک مصنوعات تیار کی جاتی ہیں۔
یہاں بھی یہ ریچھ دو افراد کے زخمی ہونے کی وجہ بنا۔ملکی میڈیا کے مطابق ان تین حملوں میں زخمی ہونے والے چار افراد میں سے ایک شدید زخمی ہوا ہے جبکہ باقی تین افراد کو کوئی شدید زخم نہیں آئے۔
گزشتہ برس ریچھوں کے ہاتھوں ریکارڈ حد تک زیادہ 13 ہلاکتیںجاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں ملک بھر میں ریچھوں کے انسانوں پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو اس نوعیت کی انسانی ہلاکتوں کی ریکارڈ حد تک زیادہ سالانہ تعداد تھی۔
ایسے حملے روایتی طور پر اس وقت زیادہ دیکھنے میں آتے ہیں، جب شدید نوعیت کے موسم سرما کے دوران کافی عرصے تک اپنی مقابلتاﹰ گرم اور انسانی آنکھوں سے پوشیدہ پناہ گاہوں میں قیام کے بعد ایسے جنگلی جانور باہر نکلتے ہیں اور بہت بھوکے ہونے کے باعث خوراک کی تلاش کے دوران انسانوں پر حملے بھی کر دیتے ہیں۔
جفتی کی کوشش میں ریچھ نے ساتھی کی جان لے لی
سرکاری ڈیٹا کے مطابق اس سال مارچ میں ختم ہونے والے جاپان کے گزشتہ مالی سال کے دوران پورے ملک میں جنگلی ریچھوں کے ان کے قدرتی ماحول سے باہر کے علاقوں میں دیکھے جانے کے واقعات کی مجموعی تعداد 50 ہزار سے زائد رہی تھی، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔
اوساکا کے شہری کا مقامی بلدیہ کے لیے غیر معمولی عطیہ، اکیس کلوگرام سونا
اس سے قبل اس سالانہ تعداد کا ریکارڈ دو سال قبل مالی سال 2023 میں قائم ہوا تھا۔ لیکن 2025 میں جنگلی ریچھوں کے شہری یا دیہی علاقوں میں نظر آنے کے واقعات دو گنا سے بھی زیادہ ہو گئے تھے۔
’برفانی انسان‘ دراصل ریچھ کی ایک قسم ہے، تحقیق
ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق جاپان کی وازرات کے مطابق ملک میں جنگلی ریچھوں کے حملوں کے واقعات میں گزشتہ جان لیوا واقعہ اسی سال اپریل میں پیش آیا تھا، جس میں ایک ریچھ نے حملہ کر کے ایک شخض کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کر دیا تھا۔
جاپانی حکومت کی طرف سے ملک میں جنگلی ریچھوں کی مجموعی آبادی کا اندازہ 57,800 کے قریب لگایا جاتا ہے۔
ادارت: جاوید اختر