ایف سی بلوچستان صوبےمیں امن وامان کےقیام کے ساتھ ساتھ عوامی خدمت میں بھی پیش پیش
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایف سی بلوچستان صوبے میں امن و امان کے قیام کے ساتھ ساتھ عوامی خدمت میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہی ہے۔ ایف سی ہسپتال کوئٹہ جدید طبی سہولیات سے آراستہ ایک اہم طبی مرکز کے طور پر ابھر چکا ہے جہاں شہریوں کو فوری، معیاری اور ہمہ وقت علاج کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔
ایف سی ہسپتال کوئٹہ میں مستند ڈاکٹروں اور تربیت یافتہ طبی عملے کی خدمات شب و روز جاری ہیں۔ ہسپتال میں صوبے کے دور دراز علاقوں سے آنے والے مریضوں کو بروقت اور معیاری علاج مہیا کیا جاتا ہے۔ خواتین مریضوں کے لیے لیڈی ڈاکٹرز کی دستیابی نے بااعتماد اور محفوظ ماحول میں علاج کو یقینی بنایا ہے۔
ایف سی اسپتال کوئٹہ میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پورے صوبے سے آنے والے مریضوں کا تسلی بخش اور فوری علاج کیا جاتا ہے اور مریضوں کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
جدید سہولیات سے آراستہ ایف سی ہسپتال کوئٹہ انسانی ہمدردی اور خدمتِ خلق کے جذبے کی عملی تصویر پیش کر رہا ہے۔ عوامی حلقوں کے مطابق ایف سی ہسپتال کوئٹہ صرف ایک طبی مرکز نہیں بلکہ امید، اعتماد اور عوامی خدمت کی روشن اور قابلِ تقلید مثال بن چکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔