data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

نئی دہلی:بھارت میں ماہِ رمضان کے دوران مسلمانوں کے خلاف مبینہ تشدد اور ہراسانی کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں اور سماجی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی شہر حیدرآباد میں تراویح کی نماز کے وقت جامعہ مسجد کے باہر بعض ہندو انتہا پسند افراد نے مبینہ طور پر نعرے بازی کی اور تیز آواز میں موسیقی چلا کر نمازیوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ عینی شاہدین کے مطابق واقعے کے باعث علاقے میں کشیدگی پھیل گئی، مقامی پولیس کی مداخلت سے صورتحال مزید خراب ہونے سے بچ گئی۔

ادھر ریاست اترپردیش کے ضلع بدایوں میں ایک شخص، جسے مقامی ذرائع نے ہندو قوم پرست تنظیم سے وابستہ قرار دیا ہے، اُس نے مبینہ طور پر تین مسلم شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں گالیاں دیں۔ متاثرہ افراد نے الزام لگایا کہ حملہ آور نے مذہبی بنیادوں پر انہیں نشانہ بنایا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی شکایت موصول ہونے کے بعد تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

دوسری جانب مغربی ریاست گجرات میں چلتی ٹرین کے اندر پیش آنے والے ایک واقعے میں ایک معمر مسلمان مسافر کو تلاوت کرنے پر مبینہ طور پر تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ عینی شاہدین کے مطابق چند افراد نے پہلے بزرگ مسافر کو روکنے کی کوشش کی اور پھر جھگڑا بڑھنے پر انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ واقعے کے بعد مسافر کو طبی امداد فراہم کی گئی جبکہ ریلوے پولیس نے معاملے کی چھان بین شروع کر دی ہے۔

حکام کی جانب سے بعض واقعات کی تحقیقات جاری ہونے کا بتایا گیا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ محض تحقیقات کافی نہیں بلکہ مؤثر قانونی اقدامات اور اقلیتی برادریوں کے تحفظ کیلئے واضح پالیسی اقدامات بھی ضروری ہیں تاکہ مذہبی ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک