بھارت میں رمضان کے دوران مسلمانوں پر حملوں کے واقعات، مختلف ریاستوں سے تشویشناک رپورٹس
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی:بھارت میں ماہِ رمضان کے دوران مسلمانوں کے خلاف مبینہ تشدد اور ہراسانی کے متعدد واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں اور سماجی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی شہر حیدرآباد میں تراویح کی نماز کے وقت جامعہ مسجد کے باہر بعض ہندو انتہا پسند افراد نے مبینہ طور پر نعرے بازی کی اور تیز آواز میں موسیقی چلا کر نمازیوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی۔ عینی شاہدین کے مطابق واقعے کے باعث علاقے میں کشیدگی پھیل گئی، مقامی پولیس کی مداخلت سے صورتحال مزید خراب ہونے سے بچ گئی۔
ادھر ریاست اترپردیش کے ضلع بدایوں میں ایک شخص، جسے مقامی ذرائع نے ہندو قوم پرست تنظیم سے وابستہ قرار دیا ہے، اُس نے مبینہ طور پر تین مسلم شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں گالیاں دیں۔ متاثرہ افراد نے الزام لگایا کہ حملہ آور نے مذہبی بنیادوں پر انہیں نشانہ بنایا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی شکایت موصول ہونے کے بعد تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
دوسری جانب مغربی ریاست گجرات میں چلتی ٹرین کے اندر پیش آنے والے ایک واقعے میں ایک معمر مسلمان مسافر کو تلاوت کرنے پر مبینہ طور پر تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ عینی شاہدین کے مطابق چند افراد نے پہلے بزرگ مسافر کو روکنے کی کوشش کی اور پھر جھگڑا بڑھنے پر انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ واقعے کے بعد مسافر کو طبی امداد فراہم کی گئی جبکہ ریلوے پولیس نے معاملے کی چھان بین شروع کر دی ہے۔
حکام کی جانب سے بعض واقعات کی تحقیقات جاری ہونے کا بتایا گیا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ محض تحقیقات کافی نہیں بلکہ مؤثر قانونی اقدامات اور اقلیتی برادریوں کے تحفظ کیلئے واضح پالیسی اقدامات بھی ضروری ہیں تاکہ مذہبی ہم آہنگی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
اٹلی میں مبینہ طور پر چار پاکستانی کسانوں(Pakistani farmers) کے لرزہ خیز قتل کے واقعے پر ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی اٹلی میں جلائی گئی ایک وین سے چار افراد کی لاشیں ملی ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جاں بحق افراد پاکستانی نژاد ہو سکتے ہیں، تاہم اس مرحلے پر ان کی شہریت کی حتمی تصدیق نہیں ہو سکی۔
دفتر خارجہ کے مطابق مقامی پولیس واقعے کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں۔
مزید پڑھیں:کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
ترجمان نے مزید بتایا کہ اٹلی میں پاکستانی سفارتخانہ مقامی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے ۔