حملے کی صورت میں امریکا ایرانی قیادت کو براہ راست نشانہ بنا سکتا ہے، تازہ رپورٹ میں انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث جنگ کے خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔
تازہ رپورٹس کے مطابق امریکا کا طیارہ بردار بحری بیڑا USS Gerald R. Ford بحیرہ روم میں داخل ہوگیا ہے، جس پر درجنوں لڑاکا طیارے تعینات ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پرتگال میں امریکی فضائی اڈوں پر بھی لڑاکا طیاروں نے پوزیشن سنبھال لی ہے، جبکہ ایک امریکی اخبار کا دعویٰ ہے کہ اردن کے ایک ایئربیس پر کم از کم 60 لڑاکا طیارے موجود ہیں۔
برطانوی خبر ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ممکنہ حملے کی صورت میں امریکا ایرانی قیادت کو براہ راست نشانہ بنا سکتا ہے اور ایرانی حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ تاہم اس حوالے سے امریکی حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
دوسری جانب ایران نے بھی سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ عالمی طاقتیں ایران کو دباؤ میں لا کر جھکانے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن ایران کسی بھی دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران سفارت کاری اور دفاع دونوں کے لیے تیار ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ٹرمپ نے ایران کو ممکنہ معاہدے کے لیے 10 سے 15 روز کا الٹی میٹم دیا تھا، جس کے بعد خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے حالیہ اقدامات سے مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے اور عالمی برادری کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دے رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔