عمران کی بہنوں کےبیان سے نقصان پہنچا ہے، محمد مالک، اطہر کاظمی ، منیب فاروق
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
کراچی (نیوز ڈیسک)تجزیہ کاروں محمد مالک، اطہر کاظمی اور منیب فاروق نے کہا ہے کہ عمران کی بہنوں کےبیان سے نقصان پہنچا ہے، بانی پی ٹی آئی چاہتے ہیں یہ نظام ختم ہو اور میں اسٹیبلشمنٹ کیساتھ چل سکتا ہوں، حکومت مسلسل حقائق کے منافی بات کرتی آرہی ہےنجی ٹی وی کے پروگرام میں میزبان شہزاد اقبال نے تجزیئے میں کہا کہ آنکھ بالکل ٹھیک تو بانی سے ملاقات میں رکاوٹ کیا ہے؟۔ پروگرام میں مرتضی علی شاہ نے بھی گفتگو کی۔ تفصیلات کے مطابق پروگرام کے آغاز میں میزبان شہزاد اقبال نے کہا کہ یہ توقع کی جارہی تھی کہ شاید حکومت اور اپوزیشن کے درمیان برف پگھل رہی ہے اور توقع کی جارہی تھی کہ شاید عمران خان کو ریلیف مل جائے گا۔ سینئر تجزیہ کار محمد مالک نے کہا کہ پہلے حکومت نے جان بوجھ کر تاخیر کی پھر تحریک انصاف نے بھی اس کو غلط ہینڈل کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔