data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260222-08-8
لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)برطانوی حکومت کا کہنا ہے اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کو شاہی جانشینی سے ہٹانے کے لیے قانون سازی پر غور کیا جا رہا ہے۔برطانوی وزیر دفاع لیوک پولارڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کی تحقیقات کے نتائج سے قطع نظر یہ اقدام اٹھانا ’صحیح عمل‘ ہو گا۔اگر حکومت قانون سازی کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اینڈریو کے بادشاہ بننے کا امکان ختم ہو جائے گا۔بچوں کے ساتھ جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ تعلقات رکھنے پر اینڈریو سے شہزادے کا خطاب اور دیگر مراعات واپس لے لی گئی تھیں۔اینڈریو بادشاہ چارلس کے بھائی ہیں۔ ’شہزادہ‘ کے خطاب سے محروم ہونے کے باوجود وہ جانشینی کے سلسلے میں آٹھویں نمبر پر ہیں۔جمعرات کی شام اینڈریو کو عوامی عہدے میں بدعنوانی کے شبے میں گرفتاری کیا گیا تھا۔ انھیں تقریباً 11 گھنٹے بعد رہا کر دیا گیا تھا تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اْن کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ جاری رہے گا۔اینڈریو مسلسل اور سختی سے کسی بھی غلط کام میں ملوث ہونے ہونے سے انکار کرتے رہے ہیں۔بی بی سی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے پولارڈ نے تصدیق کی کہ حکومت سابق شہزادے کو ممکنہ طور پر تخت سے دور رکھنے کے منصوبوں پر بکنگھم پیلس کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔پولارڈ کا کہنا تھا کہ انھیں امید ہے کہ اس اقدام کی تمام پارٹیاں حمایت کریں گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جو تب ہی ممکن ہے جب پولیس کی تفتیش مکمل ہو جائے۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کا کہنا

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن