بھارتی فورسز مقبوضہ کشمیر میں جنسی تشدد کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہیں، غلام محمد صفی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
انہوں نے کہا کہ 22 اور 23 فروری 1991ء کی درمیانی شب کو ضلع کپواڑہ کے جڑواں دیہات کنن اور پوشپورہ میں پیش آنے والا المناک واقعہ برصغیر کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین باب ہے جس نے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ نے غیور کشمیری عوام کی سات دہائیوں پر محیط بے مثال جدوجہد بالخصوص 2019ء کے بعد سے بھارتی سامراج کے بڑھتے ہوئے مظالم کے خلاف دکھائی جانے والی استقامت کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد جموں و کشمیر شاخ کے کنوینر غلام محمد صفی نے ایک بیان میں کہا کہ قابض بھارتی فورسز نے وادیِ کشمیر میں تحریک حقِ خودارادیت کو سبوتاڑ کرنے کے لیے جہاں جبر و استبداد کے تمام ہتھکنڈے آزمائے، وہیں جنسی تشدد کو ایک جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے انسانیت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 22 اور 23 فروری 1991ء کی درمیانی شب کو ضلع کپواڑہ کے جڑواں دیہات کنن اور پوشپورہ میں پیش آنے والا المناک واقعہ برصغیر کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین باب ہے جس نے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس لرزہ خیز رات کو بھارتی افواج نے لگ بھگ 100 سے زائد عفت مآب خواتین کی اجتماعی آبرو ریزی کر کے نہ صرف اخلاقیات کی تمام حدیں پار کیں بلکہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے چارٹر کی دھجیاں اڑا دیں۔
انہوں نے کہا کہ اس وحشیانہ واقعے کو تین دہائیاں بیت جانے کے باوجود بھی مظلوم مائیں، بہنیں اور بیٹیاں انصاف کے حصول کے لیے در بدر ٹھوکریں کھا رہی ہیں جو نام نہاد بھارتی جمہوریت کے چہرے پر ایک بدنما داغ اور عالمی برادری کی خاموشی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں صنفِ نازک کے ساتھ یہ گھنائونا سلوک محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم ریاستی پالیسی کا حصہ ہے تاکہ کشمیریوں کے حوصلے توڑ کر انہیں اپنی جائز اور مبنی برحق جدوجہد سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔حریت رہنما نے کہا کہ قابض انتظامیہ علاقے میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے، کشمیریوں کے گھروں کو بلڈوز کرنے، جائیدادوں کو ضبط کرنے اور آزادی پسند طبقے کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کے لیے ملازمتوں سے برطرف کرنے جیسے غیر آئینی اقدامات پر اتر آئی ہے جو جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ، عالمی برادری اور انسانی حقوق کے علمبرداروں سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ ریاست میں جاری اس انسانی المیے کا فوری نوٹس لیں، بھارت کو ان غیر انسانی اور غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے روکیں اور کشمیری عوام کو ان کا بنیادی اور ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت دلانے کے لیے اپنی اخلاقی ذمہ داری پوری کریں تاکہ خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
سٹی 42: سندھ حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ انسانی حقوق کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے، ان کی تعیناتی سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد عمل میں لائی گئی۔
محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس (ر) مقبول باقر کو پانچ سال کی مدت کے لیے کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سابق چیئرپرسن اقبال احمد ڈیتھو کو عہدے سے فارغ کیے جانے کے بعد سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن کا منصب خالی تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئی تقرری سے کمیشن کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سابق نگران وزیر اعلی سندھ بھی رہے۔