بارکھان میں کرش پلانٹ پر مسلح افراد کی فائرنگ، 3مزدور اغوا، پولیس چوکی پر بھی حملہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2026 GMT
کوئٹہ:بلوچستان کے ضلع بارکھان میں سیکیورٹی صورتحال ایک بار پھر کشیدہ ہوگئی جب نامعلوم مسلح افراد نے زرغون کنسٹرکشن کمپنی کے کرش پلانٹ (سنگ شکن پلانٹ) پر رات گئے شدید حملہ کر دیا۔
حملہ آوروں نے پہلے پلانٹ پر فائرنگ کی اور وہاں موجود موسیٰ خیل سے تعلق رکھنے والے تین مزدوروں کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے پلانٹ کے قریب قائم پولیس چوکی پر بھی حملہ کیا، جہاں موجود تین پولیس اہلکاروں سے سرکاری اسلحہ چھین لیا اور موقع سے فرار ہوگئے۔ یہ واقعہ ضلع بارکھان کے ایک دور دراز علاقے میں پیش آیا جہاں کمپنی روڈ کنسٹرکشن اور متعلقہ کاموں میں مصروف تھی۔
حکام کے مطابق حملہ آوروں نے پلانٹ پر شدید فائرنگ کی، جس سے مشینری کو جزوی نقصان پہنچا اور کام کا عمل معطل ہوگیا۔ اغوا ہونے والے تینوں مزدوروں کی شناخت موسیٰ خیل کے رہائشیوں کے طور پر ہوئی ہے، جو کمپنی میں روزانہ کی بنیاد پر کام کر رہے تھے۔
واقعے کے فوراً بعد علاقے میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس نے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ لیویز اور فرنٹیئر کور (FC) کی ٹیمیں بھی سرگرم ہیں اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ اب تک اغوا شدگان کی بازیابی یا حملہ آوروں کی گرفتاری کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔
یہ حملہ بلوچستان میں تعمیراتی کمپنیوں، خاص طور پر روڈ اور انفرا اسٹرکچر پروجیکٹس پر کام کرنے والے مزدوروں اور سیکیورٹی اہلکاروں کے خلاف حالیہ واقعات کی ایک نئی کڑی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حملوں کا مقصد پروجیکٹس کو روکنا اور علاقے میں خوف و ہراس پھیلانا ہو سکتا ہے۔
ضلعی انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں میں سیکیورٹی سخت کر دی ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک حرکت کی فوری اطلاع دیں۔ زرغون کنسٹرکشن کمپنی کے حکام نے بھی واقعے کی تصدیق کی ہے اور متاثرہ مزدوروں کے اہل خانہ سے رابطہ کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: حملہ آوروں
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔